حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 257 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 257

حقائق الفرقان ۲۵۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ، باپ دنیا سے خوش ہو کر نہیں گئے۔باپ کی رضامندی کو میں نے دیکھا ہے اللہ کی رضا مندی کے نیچے ہے اور اس سے زیادہ کوئی نہیں۔افلاطون نے غلطی کھائی ہے۔وہ کہتا ہے ” ہماری روح جو او پر اور منزہ تھی ہمارے باپ اسے نیچے گرا کر لے آئے۔“ وہ جھوٹ بولتا ہے۔وہ کیا سمجھتا ہے کہ روح کیا ہے۔نبیوں نے بتلایا ہے کہ یہاں ہی باپ نطفہ تیار کرتا ہے پھر ماں اس نطفے کو لیتی ہے اور بڑی مصیبتوں سے اسے پالتی ہے۔نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے۔بڑی مشقت س حَمَلَتْهُ أُمه كُرْهًا وَ وَضَعَتْهُ كُرْهًا (الاحقاف: ۱۲) اسے مشقت سے اُٹھائے رکھتی ہے اور مشقت سے جنتی ہے۔اس کے بعد وہ دو سال یا کم از کم پونے دو سال اسے بڑی تکلیف سے رکھتی ہے اور اسے پالتی ہے۔رات کو اگر وہ پیشاب کر دے تو بسترے کی گیلی طرف اپنے نیچے کر لیتی ہے اور خشک طرف بچے کو کر دیتی ہے۔انسان کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ ( یہ بھی میں نے اپنے ملک کی زبان کے مطابق کہہ دیا ور نہ باپ کا حق اول ہے اس لئے باپ ماں کہنا چاہیے ) سے بہت ہی نیک سلوک کرے۔تم میں سے جس کے ماں باپ زندہ ہیں وہ ان کی خدمت کرے اور جس کے ایک یا دونوں وفات پاگئے ہیں وہ ان کے لئے دعا کرے،صدقہ دے اور خیرات کرے۔ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مردہ کو کوئی ثواب وغیرہ نہیں پہنچتا۔وہ جھوٹے ہیں ان کو غلطی لگی ہے۔میرے نزدیک دعا، استغفار، صدقہ، خیرات بلکہ حج ، زکوۃ ، روزے یہ سب کچھ پہنچتا ہے۔میرا یہی عقیدہ ہے اور بڑا مضبوط عقیدہ ہے۔ایک صحابی نبی کریم صلعم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری ماں کی جان اچانک نکل گئی ہے اگر وہ بولتی تو ضر ور صدقہ کرتی۔اب اگر میں صدقہ کروں تو کیا اُسے ثواب ملے گا ؟ تو نبی کریم صلعم نے فرمایا۔ہاں۔تو اس نے ایک باغ جو اس کے پاس تھا صدقہ کر دیا۔میری والدہ کی وفات کی تارجب مجھے ملی تو اس وقت میں بخاری پڑھا رہا تھا۔وہ بخاری بڑی اعلیٰ درجہ کی تھی۔میں نے اس وقت کہا اے اللہ ! میرا باغ تو یہی ہے تو میں نے پھر وہ بخاری وقف کر دی۔فیروز پور میں فرزند علی کے پاس ہے۔