حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 246
حقائق الفرقان ۲۴۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة خواہ ہوں۔میں نے تمہیں سمندر کے سمند ر سنائے مگر تم بھی بہادر ہو۔بعض ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں رینگتی ہی نہیں قَسَتْ قُلُوبُكُم خدا ساری قوم کو برا نہیں کہتا۔بعض نیک بھی تو ہوتے ہیں جو ان مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ الله کے مصداق ہوتے ہیں۔منھا میں جو ضمیر ہے اس میں اختلاف ہے۔بعض پتھروں کی طرف پھیرتے ہیں بعض قلوب کی طرف۔جیسے اِقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِ فِيهِ فِي الْيَمِ (طه:۴۰) موسی کو صندوق میں ڈال دو اور صندوق کو دریا میں ڈال دو۔الفضل جلد نمبر ۲۳ مورخه ۱۹ نومبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) مگر پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اور سخت بھی ایسے کہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے کیونکہ پتھروں سے تو پانی بھی جاری ہو جاتا ہے مگر تمہارے دل خوف الہی سے پیسجے تک بھی نہیں۔البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۶۳) b ، افتَطْمَعُونَ اَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلمَ اللهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ امَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُم إِلى بَعْضٍ قَالُوا أَنْحَدِ تُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُم لِيُحَاجُوكُم بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ - ترجمہ۔(اے مسلمانو!) کیا تم اُن ( سنگ دلوں) سے امید رکھ سکتے ہو کہ وہ تمہاری باتیں مانیں گے حالانکہ اُن میں سے ایک فریق ایسا بھی ہے کہ جو کلام اللہ کو سن سمجھ کر پھر اس کو تبدیل کرتا ہے حالانکہ وہ اس کے درست معنی کا علم رکھتا ہے۔جب (وہ) مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب خلوت میں الگ ہو کر وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کیا تم ایسی باتیں بتا دیتے ہو مسلمانوں کو جن کی حقیقت اللہ نے تم پر کھول رکھی ہے اسی وجہ سے تو مسلمان تم پر حجت قائم کر کے تمہارے رب کے حضور تم کو قائل کر لیتے ہیں یا کر لیں گے۔کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں۔تفسیر۔اَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری بات مان لیں مگر یہ وہ لوگ ہیں کہ جس کتا ہے کو کلام اللہ مانتے ہیں اس کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں بعد اس کے کہ اس کو يَسْمَعُونَ كَلمَ اللهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ -