حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 245
حقائق الفرقان ۲۴۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۷۵۔ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً۔وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهرُ ۖ وَ إِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَ إِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تعملون - b ترجمہ۔پھر تمہارے دل اس کے بعد سخت ہو گئے گویا کہ وہ پتھر ہیں یا پتھر سے بھی زیادہ سخت کیونکہ بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور بے شک بعض پتھر ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے پھٹ پڑنے سے پانی جاری ہو جاتا ہے اور تحقیق بعض پتھر ایسے ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے کرتوتوں سے غافل نہیں۔تفسیر۔فَيَخْرُجُ مِنْهُ المَاءِ - جب بعض پتھر ایسے ہیں کہ ان سے پانی نکلتا ہے تو مومن کے اندر سے تو اس سے بڑھ کر کچھ نکلنا چاہیے یعنی اتنی ندیاں پھوٹ کر نکلیں کہ عالم سیراب ہو۔پتھروں سے پانی نکل کر فارغ البالی ، سرسبزی کا ذریعہ بنتا ہے تو مومن کے اندر سے بھی ایسے کلمات نکلنے چاہئیں جن سے روحانی سرزمین میں بہار آتی ہو۔لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ۔پتھر کے اوپر سے گرنے کا نظارہ انسان میں خشیت پیدا کرتا ہے یا ضمیر قلوب کی طرف ہو۔وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ - گناہ سے بچنے اور خشیت اللہ پیدا کرنے کا ایک ذریعہ یہی ہے کہ انسان کو یہ یقین ہو اللہ میرے کاموں سے بے خبر نہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۴) میں اس آیت کو سنا کر افسوس کرتا ہوں۔مسلمانوں کو بتلایا کہ تم ایسا کام نہ کرنا۔صد با قتل کرتے ہیں ڈرتے نہیں۔ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمُ۔تمہارے دل سخت ہو گئے۔بعض پتھروں سے نہریں چلتی ہیں اور ان سے نفع پہنچتا ہے مگر تم تو ان پتھروں سے بھی بدتر ہو۔تم جس قدر ہو تم میں سے ندیاں اور نہریں جاری ہوتیں اور کچھ نہیں تو پانی نکلتا۔میں تمہارا خیر