حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 227 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 227

حقائق الفرقان ۲۲۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کی مثال سے عبرت پکڑو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ / فروری ۱۹۰۹ صفحه ۱۱، ۱۲) اضْرِبْ نِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ۔اس کے دو معنی ہیں عصا پتھر پر مارو۔پانی کا چشمہ کھل گیا۔اللہ صاحب کشف کو آگاہ فرما سکتا ہے کہ اس پتھر کے نیچے پانی کا سوتا ہے۔۲۔پہاڑ پر جماعت کو لے جاؤ۔۔۔۔۔فَاقْتُلُوا اَنْفُسَكُمْ۔ان مشرکوں مجرموں کو قتل کر دو۔باءُ بِغَضَبٍ مِّنَ اللهِ۔بتادیا کہ یہ مغضوب علیہم کا ذکر تھا۔تشخيذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۷) فَقُلْنَا اضْرِبُ نِعَصَاكَ الْحَجَرَ - فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا (البقرۃ:۶۱) اپنی جماعت کو لے کر پہاڑ پر چلا جا۔پس بارہ چشمے ایسے جاری ہیں۔اس آیت میں تین لفظ ہیں ان کے معنے سنو! ١- الضّرْبُ ايُقَاعُ شَيءٍ عَلَى شَيْءٍ مِنْهُ ضَرْبُ الرِّقَابِ ثُمَّ ضَرْبُ الْخَيْمَةِ وَضَرْبُ الذلة - ضرب کے معنے ہیں ایک چیز کا دوسری پر مارنا۔گردن کا مارنا۔خیمہ کا لگانا اور ذلت کی مار مارنا اسی سے نکلا ہے۔٢ - وَ الطَّرْبُ فِي الْأَرْضِ التِّهَابُ فِيهِ وَمِنْهُ إِذَا ضَرَبْتُهُ فِي الْأَرْضِ وَاضْرِبُوْا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا وَمِنْهُ ضَرَبَ يَعْسُوبُ الدِّين أَى أَسْرَعَ الشَّهَابَ فِي الْأَرْضِ فِرَارًا مِنَ الْفِتَنِ (لسان ، تاج، مجمع البحرين) اور ضرب کے معنی ہیں زمین میں جانا اور اسی سے ہے جب تم زمین میں جاؤ اور زمین کی مشرق و مغرب میں جاؤ اور اسی محاورہ سے ہے یعسوب دین چلا یعنی فتنوں سے بھاگ کر جلدی کہیں کو نکل گیا۔( یعسوب الدین مولیٰ مرتضیٰ علیہ السلام کا لقب ہے )۔وَالطَّرْبُ الْإِقَامَةُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ أَىٰ رَوِيَتْ إِبِلُهُمْ حَتَّى بَرِكَتْ وَأَقَامَتْ يُقَالُ ضَرَبَ بِنَفْسِهِ الْأَرْضَ أَتَى أَقَامَ وَالطَّرْبُ يَقَعُ عَلَى كُلِّ فِعْلٍ وَعَلَى جَمِيعِ الْأَعْمَالِ إِلَّا قَلِيلًا (تاج، لسان) اور ضرب کے معنی ہیں اقامت کرنا۔محاورہ ہے لوگوں نے اپنے اے ہم نے ایک تدبیر بتائی کہ تو اپنی لاٹھی پتھر پر مارپس اُس میں بارہ چشمے پانی کے بہہ نکلے۔( ناشر )