حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 149
حقائق الفرقان ۱۴۹ سُورَةُ الْبَقَرَة اپنے لئے کما لیا کر وست بیٹھنا اچھا نہیں۔تو بہت خفا ہو کر بولا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ٹوکری اٹھاؤں یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ایسا ہی ایک اور شخص کو نصیحت کی کہ کچھ ملا زمت یہاں کر لے جس سے گزارہ چل جائے اور کسی سے کچھ مانگنا نہ پڑے۔تو بولا کیا میں محمد علی کو اپنا بادشاہ بنالوں۔یہ سب فضول تکبر کے کلمات ہیں۔بعض منافق ایسے ہوتے ہیں کہ کچھ حصہ شریعت کو مانتے ہیں باقی پر عمل کرنے سے ڈرتے ہیں۔جس حصے میں شامل ہوتا ہے اس کی برسات رحمت اُس پر پڑتی ہے مگر بعض باتوں کو برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ بارش میں اگر چہ بڑی بڑی رحمتیں ہیں مگر ابتلاء بھی ہیں۔مثلاً رات کا وقت ہو اندھیرا ہو۔بادلوں کے سبب چاند اور ستارے بھی نظر نہ آویں۔ایسی سخت تاریکی پھر گرج اور کڑک۔کس قدر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ایک دفعہ ہم کشمیر سے آ رہے تھے۔ٹانگہ پر سوار تھے۔راستہ میں ایک جگہ ہوا کی بالکل بندش کے سبب بہت تکلیف تھی۔ٹانگہ والا بھی کہتا تھا کہ غضب ہے۔تھوڑی دیر میں خدا تعالیٰ نے بادل بھیجے خوب بارش ہوئی۔سڑک پر پانی ہو گیا جس سے ٹانگے کو چلنے میں دقت ہوئی۔ٹانگے والا بولا غضب الہی میں چلتے تو تھے اب رحمت الہی تو چلنے بھی نہیں دیتی۔یہی حال منافق کا ہے۔منافق جہاد میں جانے سے ڈرتا ہے کہ کہیں موت نہ آ جائے۔بعض لوگ اپنی ملازمت پر معقول تنخواہ پاتے ہیں لیکن وہ عہدہ ایسا ہوتا ہے کہ وہاں رشوت لے سکتے ہیں ساتھ والوں کو رشوت لیتے ہوئے دیکھ کر رہ نہیں سکتے۔آخر اس بدی میں گرفتار ہو جاتے ہیں یہ عملی منافق ہیں۔ایسے لوگ اپنے آپ کو پاک قرار دیتے ہیں اور دلائل دینے لگتے ہیں۔ایسوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو تھوڑی بینائی گی ہے مگر جو لگی ہے وہ بھی کہیں جاتی نہ رہے۔بعض لوگ انگریزوں کی نقل کے سبب چھری کانٹے سے کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت نے ایک دفعہ چھری سے کھایا تھا یا پتلون کے سبب کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت نے ایسا کیا تھا۔یہ منافق ہیں کیونکہ دین کی باتیں جب ان کو سنائی جاتی ہیں تو ٹال دیتے