حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 93 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 93

حقائق الفرقان ۹۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اپنے اعمال کے نتائج اور ثمرات پر کامل یقین رکھتا ہے تو ہر ایک حجاب دُور ہو کر اس کو کامیابی نصیب ہوتی ہے اور متقی کے ہدایت پر ہونے کی یہ ایک دلیل بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو جاویں تو پھر اُن کی کامیابی ان کے راہِ راست پر ہونے کی دلیل ہے۔دعویٰ کر کے دشمن پر ایک خاص غلبہ پانا ایک خاص نشان صداقت کا ہوتا ہے۔آنحضرت اور آپ کی جماعت کو دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ کس قدر احسان ہے اور کیسا شکر کا مقام ہے کہ ہم لوگوں کو اب ان باتوں کو ساعی طور پر نہیں ماننا پڑتا ہے بلکہ خدا کے کرم وفضل سے ایک علی ھدی اور ضلح وجود ہمارے زمانہ میں موجود ہے اور عرصہ بائیس سال سے جو کامیابی وہ دشمنوں پر حاصل کر رہا ہے وہ اس کے راہ راست پر ہونے کی دلیل ہے اور یہی وہ منہاج نبوت ہے جس کو وہ دکھلاتا ہے اور کم بخت نادان دشمن نہیں دیکھتے۔۔۔۔۔۔کامیابی یعنی امن ، آرام اور سکھ کی زندگی کے اسباب اور اس کے اصول اس میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرما کر اب آگے مغضوب علیہم گروہ کے حالات بیان کئے ہیں۔مفد البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۰) مُفْلِحُونَ۔مظفر و منصور، کامیاب۔یہ ہدایت یافتوں کا نشان ہے۔اگر آجکل مسلمان ہدایت پر ہوتے تو وہ ایسے ذلیل وحقیر نہ بنتے بلکہ اپنے ہر کام میں مظفر ومنصور ہوتے۔( البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۰ / اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲) - اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَاَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ترجمہ۔بے شک جن لوگوں نے حق کو چھپایا برابر ہے ان پر کیا ڈرایا تو نے انہیں یا نہ ڈرایا تو نے انہیں وہ نہ مانیں گے (کبھی)۔تفسیر۔یہ غضب گفر سے پیدا ہوتا ہے۔پس فرماتا ہے إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا جن لوگوں نے گفر اختیار کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے بطور جملہ معترضہ اس کی وجہ بیان فرمائی۔جملہ معترضہ مبتدا و خبر کے درمیان میں کئی وجوہات سے آتا ہے۔ایک وجہ بیان کرنے کے لئے چنانچہ یہاں اسی لئے فرمایا سواء عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لا يُؤْمِنُونَ کہ برابر ہو گیا ہے ان پر تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا یعنی وہ