حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 8
میر ناصر نواب صاحب نے اور ان کے بعد صاحبزادہ میر محمد اسحٰق صاحب نے اور پھر حضرت مرحوم کے پُرانے خادم حافظ حامد علی صاحب نے بھی اپنی عینی شہادت کا اظہار کیا۔(ایڈیٹر بدر) (ضمیمہ اخبار بدر ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) وتر وتر میں بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے کہ وہ صرف ایک رکعت پڑھ لیتے ہیں۔حضرت صاحب کا یہ طریق نہ تھا بلکہ آپ دو رکعت پڑھ کر اور سلام پھیر کر پھر ایک رکعت پڑھتے تھے۔الحمدمتنِ کتاب ہَے شیخ محی الدین ابنِ عربی لکھتے ہیں کہ مَیں نے جتنی دفعہ الحمد شریف پڑھا ہے ہر دفعہ اس کے نئے معنے میری سمجھ میں آئے ہیں مَیںاگرچہ ایسا دعوٰی تو نہیں کر سکتا مگر مَیں نے بغور دیکھا ہے اور میرا اعتقاد ہے کہ سارا قرآن مجید الحمد شریف کے اندر ہے۔الحمد متن ہے اور قرآن شریف اس کی شرح ہے۔الحمد میں شفا ہَے صحابہؓ کے زمانہ میں ایک شخص کو جو کسی گاؤں کا نمبردار تھا سانپ نے ڈسا تھا صحابہ ؓ نے الحمد شریف پڑھ کر اس کا علاج کیا تھا اور اُسے شفا ہو گئی تھی۔ایسا ہی ابنِ قیّم نے لکھا ہے کہ جب مَیںمکّہ معظمہ میں تھا اور طبیب کی تلاش میرے واسطے مشکل تھی تو مَیں اکثر الحمد کے ذریعہ اپنی بیماریوں کا علاج کر لیا کرتا تھا۔ابنِ قیّم کا مَیں بہ سبب اس کے علم کے معتقد ہوں اور اسے ایسا آدمی جانتا ہوں جو لاکھوں میں ایک ہوتا ہے۔میرا اپنا بھی تجربہ ہے کہ مَیں نے بہت سے بیماروں پر الحمد کو پڑھا اور انہیں شفا ہوئی۔مَیں چاہتا ہوں کہ لوگ سوچ سوچ کر الحمد کو نماز میں پڑھا کریں اور اس سے فائدہ اُٹھائیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) الحمد متنِ قرآن ہے باقی تمام قرآن اس کی شرح ہے۔(تشحیذالاذہان بابت ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۳۵) سُورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے خواہ آدمی امام کے پیچھے ہو۔دِن کی نمازوں میں یا رات کی نمازوں میں۔قرآن شریف کی کوئی آیت اس کے مخالف نہیں نہ کوئی حدیث اس کے مخالف ہے۔(بدرؔ۲۳؍مئی ۱۹۱۲ء صفحہ۳)