حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 66
متّقی کی چوتھی علامت (البقرۃ:۵) اور وہ لوگ جو اِس ( کلامِ الہٰی اور تمام اس وحی کے ساتھ) ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف نازل ہؤا ( اور یہ امر اُن پر واضح ہونے سے کہ خدا کی صفتِ تکلّم ہمیشہ سے ہے ) تجھ سے پہلے جو ( کلامِ الہٰی) نازل ہوئی اس کو بھی مانتے ہیں( اور اس صفتِ تکلّم کو صرف تجھ (صلّی اﷲ علیہ وسلّم۔ناقل)تک بھی محدود نہیں کرتے اور پیچھے آنے والی ( کلامِ الہٰی ) پر بھی یقین رکھتے ہیں۔اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ بتلاتا ہے کہ متّقی کی صفِت ایک یہ بھی ہے کہ مکالمہ الہٰی پر اس کا ایمان ہوتا ہے اور وہ خدا کو کسی زمانہ ماضی، حال اور مستقبل میں گونگا نہیں مانتا۔خدا تعالیٰ کے اِس صفتِ تکلّم کا ذکر ایمان، اقام الصّلوٰۃ اور انفاقِ رزق کے بعد اِس لئے ضروری ہے کہ اِن اعمال کا یہ تقاضا عملی طور پر ایک متّقی کے واسطے ہونا چاہیئے کہ آیا اس کی محنت خدا شناسی کا کوئی راستہ اس کے واسطے صاف کر رہی ہے کہ نہیں؟ اور جس راہ پر مَیں نے قدم مارا ہے کیا اس پر دوسرے بھی قدم مار کر تسلّی یافتہ ہوئے ہیں کہ نہیں؟ تو اس کو یہ نظیر زمانہ ماضی، حال میں مِلتی ہے جس سے آئندہ کے لئے اُسے یقینی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی صفتِ تکلّم کے بارے میں انسانوں کے تین گروہ ہیں( ۱) وہ جو سِرے سے اِنکار کرتے ہیں اور خدا کو گونگا مان بیٹھے ہیں (۲) وہ جن کا یہ اعتقاد ہے کہ اَزمنہ گزشتہ میں خدا ایک حد تک بول چکا مگر آئندہ وہ لوگوں سے یا کِسی سے بولتا نہیں (۳) جن کا یہ اعتقاد ہے کہ خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں کلام کرتا ہے۔تیسری قِسم کے لوگ ہی ہمیشہ بامراد اور کامیاب ہوتے رہے ہیں اور ہر ایک مومن کی یہی صفت ہونی چاہیئے اور یہی اعتقاد ہے جو کہ اعلیٰ اعلیٰ مراتب اور درجات حاصل کرواتا ہے۔اس کے مخالف جس قدر عقیدہ ہیں وہ اﷲ تعالیٰ کو ایک کامل ہستی نہیں مانتے بلکہ ان کا اﷲ ناقص خدا ہے۔ان کا مذہب ناقص مذہب ہے۔یہ شرف سچّے اور زندہ مذہب ہونے کا صرف اسلام ہی کو حاصل ہے اور چونکہ متکلّم ازل سے ایک ہی ذاتِ پاک ہے اِس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اصولاً ہر ایک زمانہ کے الہام کی تعلیم ایک ہی ہو اور ہر زمانہ کے الہامات ایک دوسرے کے مؤیّد اور مصدِّق ہوں۔مکالمۂ الہٰی کے ذکر کا اِس مقام پر یہ فائدہ بھی ہے کہ انسان کو حِرص پیدا ہوتی رہے کہ خدا مجھ سے بھی کلام کرے اور اپنے اعمال کو سنوار کر ادا کرے جیسے ایک شخص کو سخی دیکھ کر اس کے پاس سوالی جمع ہو جاتے ہیں کہ ان کو بھی ملے اور جن اعمال سے یہ شرف مکالمہ کا حاصل ہو سکتا