حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 65
ہیں اور مجاہد تابعیؒ نے کہا ہے کہ ان دونوں سے عام مومن مراد ہیں اور تفسیر ابن کثیر میں اسی کو پسند کیا گیا ہے اور کامکرّرلانا اور پہلے اور دوسرے میں کہنااور پھر دوبارہ اُولٰٓئِکلانااورنئی خبر کا لانا صحابہؓ کے قول کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ ان سب باتوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ دو متغائر عبارتوں سے متغائر لوگ مراد ہیں لیکن سورۃ بقرہ کے آخر میں جو یہ آیا ہے کہ (البقرۃ: ۲۸۶) تو یہ مجاہد کے قول کی تائید کرتا ہے کیونکہ اِس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سب کا مومن بہ یکساں ہے اور آخرۃ چونکہ قرآن مجید میں بعض مقام پر دارؔیا یومؔ ملا کر لایا گیا ہے جیسا کہ آتا ہے (یوسف:۱۱۰)(اور ضرور پیچھے آنے والی حیاتی کی حویلی بہتر ہے) اور اَلْیَوْمُ الْاٰخِرِ(پیچھے آنے والا دن) اور دارِ آخرت اور یَومِ آخر سے مراد حشر کا وقت ہے لہٰذا مفسّروں نے یہاں پر اکیلے اَ لْاٰخِرِۃِسے بھی حشر کا وقت اور قیامت ہی مراد رکھا ہے لیکن ماقبل پر یعنی (البقرۃ:۵)َ پر نظر کرنے سے حضرت خاتم النّبیّین کی دوسری بعثت ثابت ہوتی ہے جس کا کہ (الجمعۃ:۳،۴) اﷲ وہ ہے کہ جس نے اَن پڑھوں میں ایک رسول بھیجا ہے جو کہ ان سے ہے کہ ان پر اﷲ کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اگرچہ اس سے پہلے کھلی کھلی گمراہی میں تھے اور ان آخرین میں بھی اس رسول کو بھیجے گا جو اَب تک ان پہلوں کے ساتھ نہیں ملے میں ذکر آیا ہے کیونکہ یہاں سے صاف صاف ثابت ہے کہ آنحضرتؐ ایک دفعہ تو اُمّی لوگوں میں مبعوث ہوئے یعنی بھیجے گئے اور ایک دفعہ ان پیچھے آنے والوں میں بھی مبعوث ہوں گے جو کہ ان پہلوں کے ساتھ نہیں ملے۔پس ماقبل پر نظر کرنے سے (البقرۃ:۵)کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ لوگ پیچھے آنے والی بعثتِ نبی کریم پر یقین کرتے ہیں۔یہ تو اس صورت میں ہوں گے جب ماقبل میںیعنی میںمصدریہ لیا جائے یعنی دوسرے ترجمہ کے لحاظ سے یہاں پر بھی بعثت مراد ہو گی جیسی کہ سے بعثت مراد ہے اور اگر موصولہ بمعنی جوؔ بنایا جاوے یعنی پہلا ترجمہ لیا جائے تو اس سے وحی مراد ہے جو کہ پیچھے آنے والی ہے جیسے کہ سے وحی مراد ہے یعنی پہلے ترجمہ کے لحاظ سے (البقرۃ:۵) کے معنے ہوں گے اور وہ لوگ پیچھے آنے والی وحی پر یقین کرتے ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان ماہِ نومبر ۱۹۰۶ء)