حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 535
:تا ظاہر کرے۔قرآن میں ایک جگہ ایسا محاورہ ہے جہاں فرمایا(الطّارق :۱۰) یُمَحِّصَ :خالص کر کے دکھادے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء) : یہ عجیب مسئلہ ہے کہ نیکی کی توفیق نہیں ملتی۔نماز میں لذّت نہیں آتی۔مصیبت پر مصیبت پڑتی رہتی ہے۔انسان پہلے خود ایک بدی کرتا ہے پھر اس بدی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شیطان اس شخص کے ساتھ دوستی پیدا کرتا ہے۔پس یہ تعلقِ شیطانبعْض مَا کَسَبُوْا کا اثر ہے۔قرآن نے اِس مسئلہ کو کئی رنگوں میں بیان کیا ہے۔شیطان کسی کے پھسلانے کی اس وقت کوشش کرتا ہے جب وہ پہلے کسی بدی کا اِرتکاب کرے چنانچہ (الصّفّ :۶)دوسری آیت (التّوبۃ:۱۲۵)ہم نے بعض شخصوں کو دیکھا ہے کہ ایک وقت تھوڑے سے گناہ کا کام بھی کئی پَردوں میں چُھپ کر کیا ہے پھر یہاں تک بڑھے ہیں کہ عین سرِ بازار رنڈیوں کے ساتھ شطرنج کھیلتے دکھائی دیتے ہیں یا ٹمٹم پر سوار ایک شخص اِس ابتلامیں پڑ گیا۔اس کی ہدایت کا موجب یہ آیت ہوئی (الحدید:۱۷)برق کی طرح اس کے دل میں اثر کر گئی اور سب منہیات کو چھوڑ دیا۔اِنسان جب بدی کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا تو پھر وہ بدی اس کی نظر میں بدی ہی نہیں رہتی۔ایک شخص قُرآن شریف میں