حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 531 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 531

ہو گئے۔اتنے بڑے عظیم الشّان شخص کے قتل کی خبر عین معرکۂ جنگ میں ہوش اُڑا دینے والی ہونی ہی تھی۔بعض تو حیران رہ گئے بعض جان توڑ کر لڑے بعض نے ہمّت ہار دی۔اﷲ جلّ شانہٗ ان کو فرماتا ہے آخر محمد رسول اﷲ رسول ہی ہیں۔اگلے رسول بھی مر چکے۔گو یہ مسلّمہ بات ہے کہ نبی گھمسان میں نہیں مارا جاتا مگر فرض کر لو کہ وہ فوت ہو گئے یا مارے گئے تو کیا وہ دین جو تم نے قبول کیا وہ چھوڑ دو گے اور پھر اس بُت پرستی کی طرف لَوٹ جاؤ گے؟ ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء) مسیحؑ کی وفات… کوئی نیا مسئلہ نہیں۔جتنے رسول آئے سب ہی فوت ہوئے۔کسی نے اپنے سے پہلے نبی کی حیات کا دعوٰی نہیں کیا۔نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کی وفات پر یہ مسئلہ پیش آیا تو سے ابوبکرؓ کی مشکل آسان ہو گئی۔باوجود اِس صاف اور سیدھی تعلیم کے پھر بھی کوئی نہ مانے اور کہے کہ ہم نے جو کچھ سمجھنا تھا سمجھ لیا تو یہ لعنت کا نشان ہے۔(بدر ۲۸؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۸)    :یعنی کِس قدر نبی ہیں۔بہت ہیں۔: اِسْتَکَانَمیں بحث ہے بعض اسے کونؔ سے کہتے ہیں۔میرا بھی یہی اعتقاد ہے۔بعض سکونؔ سے مگر ہر صورت میں اِسْتَکَنَبنے گا۔تو مطلب یہ ہؤا کہ وہ ایک حالت سے دوسری حالت میں نہیں ہوتے۔رِبِّیْ : امام، نیک لوگ ، جماعت۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء)