حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 519
بدی کا بدلہ بدی سے دینا گویا ایک اَور بدی کرنا ہے۔صبر بڑے بڑے پَھل رکھتا ہے۔ہم یہاں سب کیوں آئے۔ہر ایک شخص اپنی اپنی نسبت جانتا ہے۔میَں تو یہاں دین سیکھنے کے لئے آیا تھا۔ایک دفعہ مرزا صاحب کے مُنہ سے اتنا نکلا تھا کہ تم اپنے وطن کا خیال تک بھی نہ لاؤ۔سو اسکے بعد مَیں نے وطن کی کبھی خواہش نہیں کی۔یہاں مَیں نے مالی جانی نقصانات اُٹھائے مگر صبر کیا۔پھر مَیں دیکھتا ہوں کہ اس صبر کا اجر مجھے مِل گیا کہ مَیں مظفّر و منصور ہو گیا۔کوئی وظیفہ کوئی عمل تم سے الگ مجھے نہیں آتا پھر بھی مَیں نے وہ بات حاصل کی جو میرے ایسے انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی۔انسان کی رُوح میں ایک تڑپ معیّت کی بھی ہے۔اﷲ وعدہ کرتا ہے کہ مَیں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔ایک معمولی انسان کا ساتھ کتنی بڑی بات ہے۔پس جس کے ساتھ خدا ہو اسے اَور کیا چاہیئے۔غرض تفرقہ پَیدا ہوتا ہے ایک دوسرے کی بات نہ سُننے سے جس کی تم لوگوں کو عادت ڈالنی چاہیئے۔میرے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا ہے کہ مسلمان کیوں ترقّی نہیں کرتے؟یہ مسلمان کب بنیں گے؟ مَیں نے اِس سوال پر بہت غور کیا ہے۔دوسری قوموں کے پاس تو تعلیم کوئی تھی نہیں مگر ضرورت محسوس کر کے انہوں نے وحدت قائم کرلی اور اس کا پَھل کھایا۔ہندو ہیں پس ان میں دولت رام نام چاہیئے۔پھر وہ کہہ دیں گے کہ یہ ہماری قوم کا ہے۔پھر نصارٰی ہیں انہوں نے قومی وحدت کا مسئلہ اختیار کر لیا ہے۔دوسرا اصل ان قوموں نے یہ سمجھ لیا کہ محنت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا پس انہوں نے محنت اختیار کر لی۔مسلمان ہیں ان کو خود مذہب نے سکھایا کہ تم وحدت پیدا کرو اور محنت کرو مگر انہوں نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔دوسری قوموں کا یہ حال کہ انہوں نے عبادت کو تو ایک خاص شخص کے گلے پر مَنڈ دیا ہے۔چنانچہ مَیں جن راجوں کے ہاں ہوتا تھا ان میں ایک مدبّر کو دیکھتا کہ وہ بڑی محنت سے کام کرتا۔جب نوکر آ کر عرض کرتا کہ مہاراج پُوجا کا وقت ہے تو وہ کہہ دیتا کِسی برہمن کو چند پیسے دے کر پُوجا کرالو۔اِسی طرح عیسائی ہیں انہوں نے اَلاَ بَلَاء یسوع کے سر پر ڈال دی جو ان کے لئے کفّارہ ہو گیا۔اَب دُنیا رہ گئی سو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے اور اس میں کامیاب ہوئے۔مسلمانوں نے نہ تو دین کو سنبھالا نہ دُنیا کو۔دین کا حال تو یہ ہے کہ سرحدی مولوی ہیں انہوں نے فتوٰی دے دیا کہ انگریزی علاقہ سے کوئی دس بھیڑیں لائے ایک ہمیں دے دے باقی حلال۔اور دُنیا کا یہ کہ بس ساری دُنیا میں نکمّے ہیں تو