حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 479
پھر سب کے سب ان کے فرمانبردار ہو جائیو۔بِاِذْنِ اﷲِ کے معنے بہ فضل اﷲ کے ہوتے ہیں۔رسول اﷲ کا کوئی کام سوا اِذن اﷲ کے نہیں ہوتا۔فرمایا وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِن رَّسُوْلٍ اِلْا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اﷲِکِسی رسول کی اطاعت نہیں ہوتی بجُز اﷲ کے فضل کے۔پس اب معنی صاف ہیں۔حضرت عیسٰیؑ فرماتے ہیں میری فرمانبرداری کرو اور ایسے تیار ہو جاؤ جیسے کیچڑ کہ اسے جس طرز میں چاہو کِسی شکل میں لایا جا سکتا ہے۔پھر مَیں اﷲ کے فضل سے کلامِ الہٰی کے ساتھ تمہاری تربیت کروں گا اور جب تمہارا عمل درآمد اس کے مطابق ہو گا توتم بلند پرواز انسان بن جاؤ گے اور رُوحانیّت کے اُوپر پرندے بن کر اُڑو گے۔اُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَ الْاَبْرَصَکے معنے ہیں کہ مَیں مادر زاد اندھوں اور جذامیوں کو بَری ٹھہراتا ہوں یا اچھا کرتا ہوں۔اَبْرَئَ ہٗ۔جَعَلَہٗ بَرِیْئًا۔تاج العرُوس میں دیکھ لو۔چنانچہ فصل الباء من باب الھمزۃصفحہ ۴ میں ہے: وَ اَبْرَئَ کَ اﷲُ مِنْہُ اَیْ جَعَلَکَ بَرِیْئًاتمام مذہبوں میں یہ خیال ہے کہ اندھا جذامی انسان ہے اپنے پچھلے جنم کے افعال و اعمال میں گرفتار ہے۔حضرت عیسٰیؑ نے بحکمِ الہٰی فرمایا کہ مَیں ان اندھوں کو بَری ٹھہراتا ہوں اور قوم میں جو ان کے متعلق پابندیاں تھیں ان کے ساتھ وہ تعلقات قائم نہ کرتے جو دوسرے بھائیوں کے ساتھ تھے وَغَیْرَ ذٰلِکَ ان کو اُٹھا دیا۔اَبْرَصَ:تاج العروس صفحہ ۳۷۳ فصل الباء من الصّادمیں لکھا ہے کہ ھو بیاض یظھر فی ظاھر البدن یعنی پُھلبہری۔اور تاج العروس صفحہ۴۰۹ فصل الکاف من باب الھاء میں لکھا ہے کہ(اکمہ) صارا عشٰی وَھو الّذی یبصر بالنّھار ولا یبصر باللّیل و بہٖ فسّر البخاری یعنی شب کور(جس سے ظاہر ہے کہ مسیحؑ ابنِ مریمؑ بَرص اور شب کوری کے مریضوں کو اپنے دَم و دوا سے اچھا کرتے تھے جو اُمّتِ محمدیہ کے افراد بھی کرتے ہیں) اچھا کرتا ہوں مگر یہ اندھے اور جذامی کیسے ہوں گے اس پر غور کرنے کے لئے قرآن مجید کی دوسری آیتوں کو دیکھنا چاہیئے جس سے صاف کُھلتا ہے کہ پیغمبر جن اندھوں اور جذامیوں کو اچھا کرتے ہیں وہ رُوحانی اندھے ہوتے ہیں۔مثلاً فرمایا (بنی اسرا ئیل :۷۳)جو اِس دُنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میںبھی اندھا ہو گا۔یہاں متّفق طور سے اعمٰی سے مراد روہانی اندھے ہیں۔ایسا ہی پہلے پارہ میں صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَسے ظاہر ہے کہ پیغمبروں کو جن بہروں،گونگوں اور اندھوں سے سابقہ پڑتا