حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 470 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 470

کا ذکر خدا تعالیٰ نے ایک آیت میں کیا ہے  (الکھف:۸۵) لیکن اسباب موافقِ مقصد کا حصول بھی اﷲ کے فضل پر موقوف ہے۔اور ایک جگہ منافقوں کے عذر کا ذکر کر کے ہم جنگ میں نہیں جا سکے فرماتا ہے (الاحزاب:۱۴) اگر وہ نکلنا چاہتے تو پھر ہم اسباب بھی مہیّا کر دیتے۔چونکہ عالمِ اسباب کے کارخانے میں ہمارا علم محیط نہیں اِس لئے ان کے مناسب موقعِ حصول کے لئے الہٰی امداد کی ضرورت ہے۔ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اس کے آگے پھر انسان کا بس نہیں چلتا بلکہ خُدا کی توفیق ویاوری کی ضرورت ہوتی ہے۔نام زنگی کا فور نہند کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سیاہی کے تمام مدارج کو طے کر چکا ہے بس آگے سفیدی ہی ہے اِسی طرح نا امّیدی جب حد کو پہنچی تو سمجھو امّید آئی۔حضرت یسعیاہ کی کتاب باب ۵۴ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مکّہ معظّمہ کی نسبت ذکر فرمایا ہے کہ یہ شہر عروسِ عرب ہے۔اس پر خطرناک مایوسی ہو گی۔اس کا کوئی بیٹی بیٹا لائق نہ ہو گا۔وہ خطرناک غلطیوں میں مُبتلا ہوں گے۔پر آخر اس مایوسی میں اُمّید۔اِس ظلمت میں خورشید نظر آئے گا۔یہاں بطور تمثیل مریمؑ اور زکریاؑ کا ذکر کرتا ہے کہ دونوں نے اسباب موجود نہ ہونے کی صورت میں اپنی مُراد پائی۔اِسی طرح مکّہ عروسِ عرب ہے ( یاد رہے کہ شہر کو عروس کہنا عام ہے لندن کو عروس البلاد کہتے ہیں شامؔ کو عروسِ عسقلان) اس کا بھی ایک بیٹا ہے جو مظفّر و منصور ہو گا۔اس کے مقابلہ میں جو آئیگا ناکام رہے گا۔بڑی بڑی طاقتوں سے لوگ اُٹھتے ہیں مگر معًا ہلاک ہوتے ہیں۔کام وہی ہوتا ہے جو خدا کرے۔دیکھو بنگالی ہیں ان کے نادان بچّوں نے گورنمنٹ کے مقابلہ میںشرارت کی مگر ناکام رہے۔میں بارہا ُ ( البقرۃ:۱۰۳) اور (البقرۃ:۱۰۳) کی تفسیر میں یہ سمجھا چکا ہوں کہ کبھی کسی خفیہ کمیٹی، مخفی منصوبے میں شامل نہ ہو۔یہی پاک تعلیم انبیاء کی ہے کہ ان کی کوئی بات مخفی نہیں ہوتی۔ہمارے حضرت صاحب کو اگر کوئی خلوت میں کچھ کہتا تو آپ اتنے زور سے گفتگوکرنے لگتے کہ نیچے گلی میں چلنے والے سُن سکتے۔ان مخفی کمیٹیوں کی ہزار ہزار صفحے کی کتابیں مَیں نے پڑھی ہیں۔یہ مدّت سے قائم ہیں مگر حضرت نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم سے لیکرحضرت عثمان تک ان کا نام و نشان نہیں ملتا۔یہ اُن کا رُعب اور ان کی قدرت نمائی تھی کیونکہ خدا نے اعلان کرا دیا تھا وَ مَا ھُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اﷲِ (البقرۃ :۱۰۳)