حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 469
:دُنیا میں دو خیالات کے لوگ رہتے ہیں ایک وہ جو ہر بات میں عالَمِ اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔وہ کسی قدرت کے اسباب کے سوا قائل نہیں۔وہ ہر امر میں ایک باریک در باریک راہ نکال لیتے ہیں اور اسی کو کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اگر ناکام رہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کوئی خاص سبب جو اِس سلسلۂ اسباب میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری تھا رہ گیا۔اگر اس کا عِلم ہو جاتا تو کبھی ناکام نہ رہتے۔یہ وہ ہیں جن کا سورۃبقرۃمیں (البقرۃ:۲۰۱)کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ایک وہ ہیں جو عالَمِ اسباب کو بالکل ہی نہیں مانتے۔وہ اپنے آپ کو مُردہ بدست زندہ سمجھتے ہیں مگر تعجّب ہے کہ عالَمِ اسباب کی کچھ قدر نہیں لیکن ضرورت کے وقت بھیک مانگ لیتے ہیں۔بدبختی سے اِس ملک میں ایک عظیم الشّان انسان گزرا ہے جس نے زمانہ کے مصائب کو دیکھ کر عالَمِ اسباب کو ترک کرنا چاہامگر اس کے پَیرو ایسی غلطی میں پڑے کہ عالَمِ اسباب کو ترک کا دعوٰی کر کے عالَمِ اسباب کے ارذل ترین پیشہ میں جا پڑے ( یعنی بھیک)۔وہ نفسانی خواہشوں کے مارنے کا دعوٰی کرتے ہیں مگر آخر انہی میں گرفتار ہوتے ہیں۔قرآن مجید نے اِن دونوں خیالات کے لوگوں کو ناپسند کیا ہے۔اس کو تو یہ راہ پسند ہے (البقرۃ:۲۰۲)عالَمِ اسباب کی رعایت بھی نہ ۱ ؎ رہے اور پھر خدا پر توکّل بھی ہو۔اﷲ تعالیٰ نے انسان کو عالمِ شہادت میں پیدا کیا ہے۔ایک عالمِ غیب بھی ہے۔ساری چیزوں میں تین باتیں ہوتی ہیں۔ذات، صفات، افعال۔ذوات محسوس نہیں ہوتے۔ہاں صفات سے ہم یقین کرتے ہیں کہ کوئی ذات ہے اور صفات کا عِلم افعال سے ہوتا ہے اور وہ موصوف جو ہے وہ عالمِ غیب میں ہے۔مَیں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے بڑی محنت سے کشاورزی کرتے ہیں پھرفصلوں کو کاٹا ہے مگر کھلیان کو آگ لگ گئی اور سب محنت برباد ہو گئی۔عالمِ اسباب کے معتقد کہہ سکتے ہیں احتیاط نہیں کی۔یہ سچّ ہے کہ عالمِ اسباب کی رعایت ضروری ہے مگر اﷲ کی مرضی بھی کوئی چیز ہے۔اِس بات ۱؎ ’نہ‘ سہوِ کاتب ہے۔مرتّب