حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 453
:نبأسے ہے جس کے معنے ہیں عظیم الشّان بات۔: متّقیبننا بڑی قربانی چاہتا ہے۔امام غزالی ؒنے مناظرہ میں ۵۶ کبیرہ گناہوں کو لکھا ہے اور ایک جگہ یہ بتایا ہے کہ قطب کے دل سے جو آخری گناہ نکلتا ہے وہ کِبر ہے۔وَ: ( التّوبۃ:۱۰۰)کے اخیر میں لکھا ہے جس سے معلوم ہؤا مہاجرین و انصار کوَ کا سر ٹیفیکیٹ مِل گیا تھا۔:اِنسان نگرانی میں غلطی بھی کرتا ہے مگر اﷲ تعالیٰ بہت عمدہ نگرانِ حال ہے۔( ضمیمہ اخبار بدرؔ ۲۷؍ مئی ۱۹۰۹ء) : متّقی کی تعریف سورۂ بقرۃ میں ہے(البقرۃ:۴)یہ میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ یہ تین صِفتیں نہیں رکھتے۔یعنی غیب پر ایمان۔دُعا مانگنے کی عادت۔کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرنا۔وہ کبھی ہدایت نہیں پاتے۔پھرلَیْسَ الْبِرُّ (البقرۃ :۱۷۸)میں اس کی تفصیل فرمائی ہے۔اَب یہاں بھی متّقی کی کچھ صِفتیں بیان کرتا ہے۔اوّل تو یہ کہ وہ دُعا مانگتے رہتے ہیں۔اپنی کمزوریوں کی حفاظت خدا سے چاہتے ہیں۔استغفار تمام انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے۔بنیٔ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔مَیں ستّر دفعہ استغفار کرتا ہوں۔پس تم ان سے بڑھ کر نہیں ہو کہ استغفار سے مستغنی نہ ہو۔( ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء)