حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 439 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 439

اور اِس خیال میں ایسا محو ہؤا کہ بہت وقت گذر گیا آخر میری بیوی نے مجھے آواز دی کہ نماز کا وقت تنگ ہوتا جاتا ہے۔وقت کا یہ حال اور ہم ہیں کہ ننگ دھڑنگ بیٹھے ہیں۔ْٓ (البقرۃ:۲۸۵) مطالعہ کر رہے ہیں۔اگر میری بیوی مجھے یاد نہ دلاتی تو ممکن تھا اسی حالت میں شام ہو جاتی) ! غرض تم لوگ یاد رکھو کہ اﷲ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتیں جانتا ہے اور ایک دن تمہارا حساب ہو گا خود حساب دینا ہی ایک خطرناک معاملہ ہے پاس کرنا اور ناکام رہنا تو دوسری بات ہے۔جو تقوٰی کی راہ پر چلا اسے بخش دے گا اور جو گمراہ ہیں ان کو عذاب ہو گا۔(الفضل ۲۵؍جون ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵)    اﷲ اُس ذات سے مراد ہے جو تمام عیبوں اور نقصوں اور بدیوں سے منزّہ۔تمام خوبیوں اور کمالات کی جامع اور ہر طرح کی نیکیوں سے متّصف ہے۔چونکہ ایک معمولی بزرگ سے تعلق اِس بات کی تحریک کرتا ہے کہ مَیں بھی نیک بن جاؤں تو پھر جس کا تعلق ایسی ذات سے ہو گا وہ کیوں نہ پاک بنے گا۔ایمان بِاﷲ کا یہی فائدہ ہے۔وَمَلٰٓئِکَتِہٖ: بارہا بتا چکا ہوں کہ انسان کو جب نیک تحریک ہو تو اسی وقت کرے کیونکہ وہی وقت اس نیکی کے کرنے کا ہوتا ہے۔اگر ذرا بھی سُستی کی جاوے تو نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔(الانفال :۲۵)