حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 425 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 425

خرچ کرنے کے یہاں بڑے مواقع ہیں۔مہمان خانہ ہے، لنگرخانہ ہے۔مدرسہ ہے۔پھر بعض لوگ آتے ہیں لیکن وہ بے خرچ ہوتے ہیں ان کو خرچ کی ضرورت پڑتی ہے اور بعض دولت مند بھی آتے ہیں اور مَیں نے اکثر دفعہ لوگوں کو کہا ہے کہ وہ آ کر اپنا سامان وغیرہ میرے حوالہ کر کے رسید لے لیا کریں کہ گم نہ ہؤا کرے مگر وہ ایسا نہیں کرتے اور ان کا سامان گُم ہو جاتا ہے اور امداد کی ضرورت اُن کو آ پڑتی ہے اور بعض ایسے ہیں کہ محض ابتغاء لِوجہ اﷲ یہاں رہتے ہیں۔پھر دو اخبار بھی ہیں اگرچہ ان کے مہتمم اپنے فرائض کو کما حقّہ‘ بجا نہیں لاتے مگر تاہم ان کا ہونا غنیمت ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہیفَاِنْ لَّمْ یُصِبْھَا وَابِلٌفَطَلٌّ توان سب اخراجات کو مدِّ نظر رکھنا اور ان موقعوں پر خرچ کرنا چاہیئے۔جو اہم امور ہیں وہاں اہم اور جو اس سے کم ہیں وہاں کم۔درجہ بدرجہ ہر ایک کا خیال رکھو۔(الحکم ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۴)     :اِس آیت میں تمام درختوں میں سے نخیل و اعناب کا ذکر بالخصوص اسلئے کیا ہے کہ یہ بہت اعلیٰ قِسم کے درخت ہیں۔رسول کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے مومن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی ہے اِس لئے کہ اس میں چند خاصیّتیں ہیں۔اوّلؔ تو یہ کہ اِس کے پتّے ہَوا سے نہیں جھڑتے۔مومن کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیئے کہ وہ قِسم قِسم کی مصیبتوں میں گھبرا نہ اُٹھے۔