حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 403
وقت ہے جیسا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔ہدایت کی راہیں کُھلی ہیں۔تجربے، مشاہدہ،سائنس، قوٰی کا نشوونما، وِجدان ،صحیح فطری قوٰی، رُشد اور غیّ میں امتیاز کرنے کو موجود ہیں۔رُشد کو اقتصاد بھی کہتے ہیں جو افراط اور تفریط کے درمیان کی راہ ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو خاص خاص مذاق میں بڑھے ہوئے ہیں۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کو کھانے ہی کی ایک دھت ہوتی ہے اور اب وہ اس میں بہت ترقّی کر گئے ہیں اور کرتے جاتے ہیں۔بعض کو دیکھا ہے کہ بچپن میں یہ عادت ہوئی اور پھر بڑھتے بڑھتے بہت سی بد اطواریوں کا باعث بن گئی۔ایسا ہی لباس میں افراط کرنے والے، مکانات میں افراط سے کام لینے والوں کا یہ حال ہے۔ایسا ہی بعض جمع اموال میں، بعض فضول خرچیوں میں بڑھتے ہیں۔جب ایک کی عادت ڈال لیتے ہیں تو پھر وہ ہر روز بڑھتی ہے۔غرض افراط اور تفریط دونوں مذموم چیزیں ہیں۔عمدہ اور پسندیدہ اقتصاد یا رُشد ہے۔یہی حال اقوال اور افعال میں ہے۔اِس طرہ پر ترقی کرتے کرتے ہم عقائد تک پہنچتے ہیں۔بعض نے تو سو سائٹی کے اصول رسم و رواج سب کو اختیار کر لیا اور مذہب کا جُز و قرار دے لیا اور بعض ایسے ہیں کہ ساری انجمنوں کو لغو قرار دیتے ہیں۔غرض دُنیا عجیب قِسم کی افراط اور تفریط میں پڑی ہوئی ہے۔رُشد اور اقتصاد کی صراطِ مستقیم صرف اِسلام لے کر آیا ہے۔بعض نادانوں نے اعتراض کیا ہے کہ اِسلام تو رُشد اور اقتصاد سکھاتا ہے۔پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مقابلہ کیوں کیا؟ مگر افسوس ہے کہ ان کو معلوم نہیں انہوں نے تو تیرہ سال تک صبر کر کے دکھایا اور پھر آخر آپ چونکہ کل دُنیا کے لئے ہادی تھے تو بادشاہوں اور تاجداروں کے لئے بھی کوئی قانون چاہیئے تھا یا نہیں؟ اَب دیکھ لو کہ غیر قوموں کی لڑائیوں میں کیا ہوتا ہے جب دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے تو بعض اوقات عورتیں، بچّے ، مویشی، کھیت سب تباہ ہو جاتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ صرف اِس لئے کہ مذہب نے ملک داری کا کوئی نمونہ اور قانون پیش نہیں کیا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہر ضرورت کی خود تکمیل کی ہے اور اسی لئے خانہداری کے اصولوں پر الگ بحث کی ہے۔ان لوگوں کو جو حیض و نفاس کے مسائل پر اعتراض کرتے ہیں غور کرنا چاہیئے کہ معاشرت کا یہ بھی ایک جزو ہے۔غرض ہماری شریعت جامع شریعت ہے جس میں انسان کے فطری حوائج، کھانے پینے سے لیکر معاشرت، تمدّن،تجارت،زراعت،حرفت،ملک داری اور پھر ان سب سے بڑھ کر خدا شناسی اور