حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 402 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 402

پھر جیسے پنجگانہ نمازیں ہر محلے میں باجماعت پڑھتے ہیں اور پھر جمعہ کی نماز سارے شہر والے اِسی طرح اِرد گرد کے دیہات والے اور کُل شہر کے باشندے جمع ہو کر عید کی نماز ایک جگہ پڑھتے ہیں اِس میں بھی وحدت کی تعلیم مقصود ہے۔غرض اسلام کے ہر رُکن میں ایک وحدت کو قائم کیا ہے پھر اس کو قائم رکھنے کے لئے خاص حکم بھی دیا لَاتَنَازَعُوْا باہم کشمکش نہ کرو کیونکہ جب ایک کھچا کھچی کرتا ہے تو دوسرا بھی اس میں مُبتلا ہو جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہَوا بگڑ جاتی ہے۔جب یہ خود دوسرے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو چونکہ وہ بھی کبرِ الہٰی کا مظہر ہے اِس لئے تکبّر کرتا اور وحدت اُٹھ جاتی ہے۔اِسی لئے حکم دیا کہ نزاع نہ کیا کرو ورنہ پھسل جاو گے اور فرمایا صبر کرو۔ایسا صبر نہیں کہ کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری پھیر دو بلکہ ایسا صبر کرو اور عفو ہو کہ جس میں اصلاح مقصود ہو۔سچّے مومن بننا چاہتے ہو تو یاد رکھولَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔(بخاری۔کتاب الایمان باب مِنَ الْاِیْمَانِ اَنْ یُّحِبُّ لِاَخِیْہِ مَایُحِبُّ لنِفْسِہٖ) اِسی وحدت کے قائم رکھنے کے لئے نمازوں میں یک جہتی تھی۔مکّہ کا وجود تھا اور اب اس وقت خدا کا کیسا فضل ہے اور کیسی مبارکی کا یہ زمانہ ہے کہ سب سامان موجود ہیں۔مکالمہ الہٰی ہوتا ہے ایک مطاع مکّہ معظم موجود ہے اور اپنے عام چال چلن، مخلوق کے ساتھ تعلّقات، معاشرت اور گورنمنٹ کے ساتھ اپنے معاملات کا نمونہ دکھانے سے قوم بنا رہا ہے اِس لئے اب کوئی عذر نہیں رہ سکتا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کہنے کی باتیں ہیں، کرنے کی نہیں۔یہ ان کی غلطی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے کوئی امرونہی ایسا نہیں دیا ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہو۔ورنہ اس کی حکیم کتاب قرآن مجید کا یہ ارشاد کہ(البقرۃ:۲۸۷) باطل ہو گیااور وہ باطل نہیں ہے متقی اور خدا سے ڈرنے والا ایسی بات مُنہ سے نہیں نکال سکتا یہ صرف خبیث رُوح کی تحریکیں ہیں۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴،۱۵) اَلْاِحْسَانُ۔اس کے بعد تیسری بات جبرائیل نے پوچھی ہے جس سے دین کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ یہ ہے مَا الْاِحْسَانُ؟احسان کیا ہے؟ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ایسا اخلاص اور احتساب ہو کہ تُو گویا اس کو دیکھتا ہے اور اگر اس درجہ تک نہ پہنچے تو کم از کم اپنے آپ کو اس کی نگرانی میں سمجھے۔جب تک ایسا بندہ نہ ہو وہ دین کے مراتب کو نہیں سمجھ سکتا۔پس ایسا دین کوئی سلیم الفطرت کہہ سکتا ہے کہ اس میں اِکراہ کی ضرورت ہے؟ ہرگز نہیں۔(البقرۃ:۲۵۷)اِس وقت بھی ویسا ہی