حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 2

لاوے۔پرارتھنا اور دعا اور بقدرِ ہمّت و طاقت دوسرے کی ہمدردی کے لئے کوشِش کرنیوالا متّقی ہے اور تقوٰی کے بارے میں ارشادِ الہٰی ہے (البقرۃ:۲۸۳)لیکن خود پسند آیاتِ الہٰی کے سمجھنے سے قاصر ہے جیسے فرمایا(الاعراف:۱۴۷)پنجم ؔ: قرآن کریم کے معانی خود قرآن مجید اور فرقانِ حمید میں دیکھے جاویں۔ششم ؔ: اسمائے الہٰیّہ کے خلاف کسی لفظ کے معنے نہ لئے جاویں۔ہفتم: تعامل سے جس کا نام سُنّت ہے معانی لے اور اس سے باہر نہ نکلے۔ہشتم ؔ: سننِ الہٰیہ ثابتہ کے خلاف ورزی نہ کرے۔نہمؔ: لُغتِ عرب و محاوراتِ ثابتہ عن العرب کے خلاف نہ ہو۔دہمؔ: عُرفِ عام سے جس کو معروف کہتے ہیں معانی باہر نہ نکلیں۔یازؔدہم: نورِ قلب کے خلاف نہ ہو۔دوازؔدہم: احادیثِ صحیحہ ثابتہ کے خلاف نہ ہو۔سیزؔدہم: کتبِ سابقہ کے ذریعہ بھی بعض معانی قرآن حل کئے جاتے ہیں۔چہارؔدہم: کِسی وحیِ الہٰی اور الہامِ صحیح کے ذریعہ سے بھی معانی قرآن حل ہو سکتے ہیں۔ہر ایک اصل کی مثالیں دوں تو ایک مجلّد ضنحیم بن جاوے اور بعض اصول عام لوگوں کے استعمال میں آنے والے نہیں معلوم ہوتے اِس لئے نمونہ کے طور پر ان امور کے استعمال کی مثال بتاویں۔(دیباچہ نور الدین صفحہ ۸،۹ نیز تشحیذالاذہان ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء) قرآن شریف کے علوم کے حصول کے ذرائع اﷲ تعالیٰ نے خود قرآن شریف میں بیان کر دیئے ہیں۔اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرّاٰن (الرحمن:۲‘۳) قرآن شریف کا سکھانا اﷲ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیّت کا تقاضا ہے۔اِس واسطے ضرورت کِن چیزوں کی ہے وہ بھی خود خدا تعالیٰ نے بیان فرما دی ہیں۔وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ یُعَلِّمُکُمُاللّٰہُ (البقرۃ:۲۸۳)متّقی کو خدا تعالیٰ معارف اور علومِ قرآنی سے خبردار کر دیتا ہے اور تقوٰی ایک ذریعہ ہے قرآن دانی کے لئے۔دوسری جگہ فرمایا ہے  (عنکبوت:۷۰)تقوٰی کے ساتھ جہاد اور کوشِش بھی شرط ہے۔پس علومِ قرآنی کا معلّم خود اﷲ تعالیٰ ہے اور اس فیض اور فضلِ رحمانی کا جاذب تقوٰی اور جہاد فی اﷲ ہے۔ہمارے نزدیک ہم نے ایک راہ کا تجربہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانی دل میں سچّی تڑپ اور پیاس علومِ قرآنی کے حصول کے واسطے پَیدا کر کے تقوٰی تام سے دعائیں کرے اور اِس طرح