حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 1 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 1

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہ‘ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ تَفْسِیْرُالْقُرْآن نزولِ قُرآن کی غرض نزولِ قرآن کی اصل غرض (۱) شُبہات کو دُور کر دے( (بنی اسرائیل:۸۳)(۲) رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنَ جنابِ الہٰی کے ساتھ براہِ راست تعلق ہو جائے ( ۳) تمیز حق و باطل ہو جائے(۴) کوئی ایسا سوال نہیں جس کا جواب نہ دیا۔کافی ہتھیار۔(عنکبوت:۵۲) (تشحیذالاذہان بابت ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۳۴) کلامِ الہٰی کے سمجھنے کے اصول میرے فہم میں کلامِ الہٰی کے سمجھنے کے لئے یہ اصول ہیں: اوّل ؔ : دعا ( پرارتھنا) جنابِ الہٰی سے صحیح فہم اور حقیقی عِلم طلب کرنا۔قرآن مجید میں آیا ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(طٰہٰ:۱۱۵)میرے رَبّ میرے علم میں ترقی بخش۔اور دعا کے لئے ضرور ہے طیّب کھانا۔طیّب لباس۔عقدِ ہمّت۔اِستقلال۔دومؔ: صرف الہٰی رضامندی اور حق تک پہنچنے کے لئے خدا میں ہو کر کوشِش کرنا جیسے فرمایا (عنکبوت: ۷۰)سومؔ: تدبّر، تفکّر۔قرآن مجید میں ارشاد ہے  (محمد:۲۵)اور فرمایا۔لَْ (اٰلِ عمران:۱۹۱)چہارمؔ: حُسنِ اعتقاد و حُسنِ اقوال و حُسنِ اعمال اور فقر۔بیماری۔مقدّمات میں صبرو استقلال۔اِس مجموعہ کو قرآن نے تقوٰی کہا ہے۔دیکھو رکوع (البقرۃ:۱۷۸)اور اس کا ایک درجہ سورۃ بقرۃ کے ابتدا میں ہے جیسے فرمایا ہے کہ اَلْغَیْبپرایمان