حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 397
اور علومِ حقّہ کے لئے اسی قدر پیاس انسان میں بڑھے گی جس قدر وہ نیکیوں اور تقوٰی میں ترقّی کرے گا۔جو انسان اپنے اندر اس پیاس کو بُجھا ہؤا محسوس کرے اور فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِنَ الْعِلْمِ کے آثار پائے اس کو استغفار اور دُعا کرنی چاہیئے کہ وہ خطرناک مرض میں مُبتلا ہے جو اس کے لئے یقین اور معرفت کی راہوں کو روکنے والی ہے۔چونکہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بے اَنت اور اس کے مراتب و درجات بے اِنتہا ہیں پھر مومن کیونکر مستغنی ہو سکتا ہے۔اِس لئے اسے واجب ہے کہ اﷲ کے فضل کا طالب اور ملائکہ کی پاک تحریکوں کا متّبع ہو کر کتاب اﷲ کے سمجھنے میں چُست و چالاک ہو اور سعی اور مجاہدہ کرے۔تقوٰی اختیار کرے تا سچّے علوم کے دروازے ان پر کُھلیں۔غرض کتاب اﷲ پر ایمان تب پَیدا ہو گا جب اس کا عِلم ہو گا اور علم مُنحصر ہے مجاہدہ اور تقوٰی پر اور فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِنَ الْعِلْمِسے الگ ہونے پر۔ایمان بِالرّسالت اِس کے بعد چوتھا رُکن ایمان کا ایمان بِالرّسول ہے۔بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈھیروں ڈھیر کتابیں ہیں۔پُرانے لوگوں کی یادداشتیں ہیں۔ہم نیکی اور بَدی کو سمجھتے ہیں۔کسی مامور و مُرسل کی کیا ضرورت ہے۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴، ۱۵) یہ لوگ اپنے مخازنِ علوم کو کافی سمجھتے ہیں اور خطرناک جُرم کے مُرتکب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے حضور باغی ٹھہرائے جاتے ہیں اور یہ سچ بھی ہے۔اﷲ تعالیٰ ہی سے تو وہ مقابلہ کرتے ہیں۔جب اﷲ تعالیٰ ایک اِنسان کو معظّم و مکرّم اور مطاع بنانا چاہتا ہے تو ہر ایک کا فرض ہے کہ رضائِ الہٰی کو مقدّم کرے اور اس کو اپنا مطاع سمجھے۔ارادۂ الہٰی کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔اس کے مقابلہ میں تو جو آئے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔پس جو خلاف ورزی کرتا ہے یا یہ سمجھتا ہے کہ میرے علوم کے سامنے اس کی احتیاج نہیں وہ اس تعظیم، مکرمت، اعزاز میں جو اس مطاع مکرّم و معظّم کے متّبعین کو ملتا ہے حصّہ دار نہیں ہوتا بلکہ محروم رہ جاتا ہے خواہ ایسا اِنسان اپنے طور پر کتنی ہی نیکیاں کرتا ہو مگر ایک انسان کی مخالفت اور خلاف ورزی سے اس کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے عظیم الشّان منشاء کے خلاف کرتا ہے۔اس پر بعاوت کا الزام ہے۔دُنیوی گورنمنٹوں کے نظام میں بھی یہی قانون ہے۔ایک بھلا مانس آدمی جو کبھی بَد معاملگی نہیں کرتا۔