حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 359 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 359

:لڑائی میں کفّار کی عورتیں قیدی بن کر آتی تھیں اِس لئے صحابہؓ نے ان کے نکاح کا مسئلہ پوچھا کیونکہ وہ ان کی رشتہ دار تھیں۔آپؐ نے حکم دیا کہ مشرکہ سے نکاح جائز نہیں۔اِس میں بہت بڑی حکمتیں تھیں۔ایک تو یہ کہ عورتوں میں شرک بہت ہوتا ہے۔اگر مشرکہ عورتیں مسلمانوں کے گھروں میں آ جائیں تو ان کی اولاد پر بُرا اثر پڑتا ہے۔مَیں نے ایک عورت کو ایسے شرک میں مبتلا دیکھا جس کو میرا واہمہ تجویز نہیں کر سکتا۔وہ یہ کہ ایک عورت ہر صبح پاخانہ کو سجدہ کرتی اور کہتی کہ ہے قد مچہ مائی! مجھے بیٹا ملے تو مَیں اپنا بیٹا تجھی پر ہگایا کروں۔: یعنی اپنی لڑکیوں کی شادیاں مُشرکوں میں مت کر دو۔اسی بنا پر ہمارے امام نے حکم دیا کہ غیر احمدیوںکو اپنی لڑکیاں نہ دو کیونکہ ان میں بھی شرک ہے اور اِس طرح میل جول سے شرک بڑھ جائے گا۔شرک مَیں نے بِلا تحقیق نہیں کہا۔مسیح علیہ السلام کے مسئلہ ہی میں جو خوفناک گمراہی ان میں ہے وہ کم نہیں۔وہ کونسی اﷲ کی صفت ہے جو اس کی طرف منسوب نہیں کرتے۔خَالِق کَخَلْقِ اﷲ اسے مانتے ہیں۔احیاء مَوتٰی اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔عالم الغیب اسے جانتے ہیں۔حرام و حلال کا اختیار اُسے دے رکھا ہے۔پھر ختمِ نبوّت کے بھی وہ قائل نہیں۔پس ایسے مشرک لوگوں سے ہمیں تعلقِ ازدواج قائم کرنے میں سراسر نقصان ہے اِس لئے امام نے منع فرمایا۔جن احمدیوں نے حضرت امام کی اِس نصیحت پر عمل نہیں کیا سُکھ انہوں نے بھی نہیں پایا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲؍اپریل ۱۹۰۹ء)