حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 333 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 333

جہاں سے ایسے عظیم الشّان حکیمانہ مذہب کا نشوونما اور ابتدا شروع ہوئی۔اِلّا ہر ایک مسلمان فقیر ہو یا امیر ہر سال اس کا وہاں جانا خلافِ فطرت تھا اور خلافِ اِمکان۔اِس لئے حکم ہوا آسودہ لوگ، استطاعت والے مسلمان وہاں جاویں۔مختلف بلاد کے حالات جاننے اور ان کے علوم و فنون کے اِدھر سے اُدھر۔اُدھر سے اِدھر لانے میں اصحابِ استطاعت ہی غالباً عمدہ طور پر کامیابی کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔کمال اتحاد اور باہم پَر لے درجہ کی یکتائی کے واسطے اور اِس لحاظ سے بھی کہ امراء اور رؤساء کے ساتھ ان کے غریب نوکر چاکر بھی ہوں گے اور ضرور ہے کوئی عاشقِ الہٰی غریب اور مسکین مسلمان بھی وہاں جا پہنچے۔حکم دیا تمام حجّاج سادہ لباس صرف دو چادروں پر اکتفا کریں۔کسی کے سر پر عمامہ یا ٹوپی نہ ہو۔کوئی کُرتہ نہ پہنے۔کمال درجے کی بے تکلّفی اور سادگی سے باہم ملیں اور لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ کی صَدا بلند کریں۔اِتنا بڑا اجتماع اس صدر مقام میں کہاں ہو۔شہر سے کئی کوس کے فاصلے پر نہایت وسیع میدان میں جہاں کسی مخلوق کی تعظیم کا نام و نشان ہی نہیں نہ کوئی پتھّر ،نہ کوئی درخت، نہ کوئی ندی، نہ کوئی رَتھ… لطیفہ: ذرا ناظرین صاحبان اِس امر پر غور کریں۔میرے اکلوتے فرزند نے سَلَّمَہُ اﷲُ وَسَلّمْ(جس کی جدائی سے نہایت رنج میں ہوں۔وَ اَشْکُوْ بَثِّیْ وَ حُزْنِیْ اِلَی اﷲِ۔اَللّٰھُمَّ اَطْلُبُ وِصَالَہ‘ اِنْ کَانَ مَعَ رَضَاکَ)مجھ سے نماز اور زکوٰۃ اور روزے اور حج کے اَسرار پر سوال کیا اُس وقت مَیں نے اسے جواب دیا۔نیاز مندی دو قِسم کی ہوتی ہے۔ایک نیازمندی خادمانہ۔خدّام کی نیازمندی اپنے آقا اور بادشاہ کے سامنے۔دوسرےؔ نیازمندی عاشقانہ۔عاشق کی محبوب کے ساتھ۔پہلی قِسم کے نیاز مند کو مناسب ہے درباری لباس پہن کر بڑے اَدب اور وقار سے مالک کے دربار میں حاضر ہو اور تمام حکّام اور مربّیوں کی اطاعت سے کان پر ہاتھ رکھ کر اطاعت کا اقرار کرے۔ہاتھ باندھ حکم کا منتظر رہے۔جھُک کر تعظیم دے۔زمین پر ماتھا رکھے۔حضور کے غریب نوکروں کے لئے نذر دے۔یہی مجملاً حقیقت نماز اور زکوٰۃ ہے۔عاشقانہ نیاز میں ضرور ہے عاشق اپنے محبوب کے سامنے عشق میں بھُوک اور پیاس بھی دیکھے۔نہایت درجہ کے اس عزیز کو بھی جس کی نسبت لکھا ہے انسان ماں باپ چھوڑ کر اس سے متحد اور ایک جسم ہو گا۔کچھ دیر کے لئے ترک کرے اور جہاں یقینی طور پر سُن لیا ہو کہ میرے محبوب کی عنایات اور توجّہات کا مقام ہے وہاں دوڑتا کُودتا،سرکے عمامہ اور ٹوپی سے بے خبر پہنچے۔