حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 331
: مکّہ والوں نے مسلمانوں کو حج و عمرہ سے منع کیا ہؤا تھا۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے تم حج کرو گے۔یہ کب تک روکتے رہیں گے۔: اگر تم روکے گئے (جیسے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر) تو بھی اندیشہ کی بات نہیں اخیر تمہاری فتح ہے۔: ذٰلِکَ میں بحث ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یہ حج و عمرہ کو ملا کر کرنے کی بَیرونی لوگوں کو اجازت ہے مکّہ والوں کو نہیں۔بعض کہتے ہیں کہ مکّہ والے بھی کر سکتے ہیں۔مجھے وہ بات پسند ہے کہ یعنی مکّہ والے تمتع نہیں کر سکتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) حج… اسلام کا ایک اعلیٰ رُکن ہے۔باوجود اِس کے کہ نوٹس اور اشتہاروں کی کجثرت ہو رہی ہے اور ہر جگہ مجلسیں اور سوسائٹیاں جوش و خروش سے قائم ہو رہی ہیں مگر پھر بھی دُنیا میں کوئی مجلس ایسی دید و شنید میں نہیں آئی جس کے ممبر پانچ وقت جمع ہوتے ہوں مگر جنابِ الہٰی نے اطاعت اور طہارت کے ساتھ پانچ وقت جمع ہونے اور مِل کر اس کی عظمت و جبروت کو بیان کرنا مسلمانوں کا فرض کر دیا ہے۔کوئی شہر اور قصبہ نہ دیکھو گے جس کے ہر محلہ میںاسلام کی یہ پنجگانہ کمیٹی نہ ہوتی ہو لیکن اس روزانہ پانچ وقت کے اجتماع میں اگر تمام باشندگانِ شہر کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا جاتا تو یہ ایک تکلیف مالا یطاق ہوتی۔اِسی لئے تمام شہر کے رہنے والے مسلمانوں کے اجتماع کے لئے ہفتہ میں ایک دن جمعہ کا مقرر ہؤا پھر اِسی طرح قصبات اور دیہات کے لوگوں کے اجتماع کے لئے عید کی نماز تجویز ہوئی اور چونکہ یہ ایک بڑا اجتماع تھا اِس لئے عید کا جلسہ شہر کے باہر میدان میں تجویز ہؤا لیکن اِس سے پھر بھی کُل دُنیا کے مسلمان میل ملاپ سے محروم رہتے تھے اِس لئے کُل اہلِ اسلام کے اجتماع کے لئے ایک بڑے صدر مقام کی ضرورت تھی تاکہ مختلف بلاد کے بھائی اسلامی رشتہ کے سلسلہ میںیکتا باہم مِل جاویں لیکن اِس کے لئے چونکہ ہر فرد ِبشر مسلمان اور امیر اور فقیر کا شامل ہونا محال تھا اِس لئے صرف صاحبِ استطاعت منتخب ہوئے تاکہ تمام دُنیا کے مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر تبادلہ خیلات کریں اور مختلف خیالات و دماغوں