حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 296 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 296

پھر اِس بات کا اِعتقاد رکھنا چاہیئے کہ اﷲ تعالیٰ کی کامل رضامندی اور خوشنودی کے حصول کا ذریعہ صرف کتبِ الہٰی اور انبیاء ہیں۔خدا کے مقدّس رسولوں کی پاک تعلیم اور کتب الہٰیّہ کی سچّی پَیروی کے سوا خدا کی رضا مندی ممکن ہی نہیں۔خدا کی پہچان اور اس کی ذات صفات اور اسماء کا پتہ خدا کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے بغیر لگ ہی نہیں سکتا۔خدا کے اوامرو نواہی اور عبادت و فرمانبرداری کے احکام معلوم کرنے کا ذریعہ کتبِ الہٰیّہ ہی ہیں جو خدا کے پاک رسولوں کے ذریعہ ہم تک پہنچتی ہیں۔غرص انسان کے عقائد درست ہوں تو فروعات خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔انسان کو لازم ہے کہ اصل الاصول پر توجّہ کرے فروعات توضِمنی امور ہیں اور اصول کے ماتحت غور کر دیکھو کہ جس انجمن جس کمیٹی اور سو سائٹی نے صرف فروعات میں کوشِش کی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔دیکھو اگر جڑہی خشک ہو تو پتّوں کو پانی میں تَر کرنے سے کیا فائدہ۔جڑسیراب ہونی چاہیئے درخت مع اپنی تمام شاخوں اور پتّوں کے خود بخود سر سبزو شاداب ہو جاوے گا اور ہرا بھرا نظر آنے لگے گا ورنہ اگر جڑ ہی قائم نہیں تو پتّوں اور شاخوں کو خواہ پانی میں ہی کیوں نہ رکھو وہ ہرگز ہرگز ہری بھری نہ ہوں گی بلکہ دن بدن خشک ہوتی جاویں گی۔(الحکم ۲۶؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۵،۶) فرماتا ہے تم مشرق مغرب کو فتح کر رہے ہو یہ نیکی نہیں۔نیکی تو اُس وقت ہو گی جب اس کی فتحمندی کے ساتھ اﷲ پر تمہارا ایمان ہو۔جو لوگ کہتے ہیں ’’ دُنیا کھائیے مکر سے روٹی کھائیے شکر سے‘‘ وہ بے ایمان ہیں۔دیکھو جب تک خشیۃ اﷲ نہ ہو، آخرت پر ایمان نہ ہو حرام خوری سے نہیں رُک سکتے۔مَیں نے ریاستوں میں رہ کر دیکھا وہاں نوشیروانی ہؤا کرتی تھی۔ایک شخص عرضیاں سُنایا کرتا۔ایک اہل عرض نے اس عرضیاں سنانے والے کو سَو روپیہ دیا کہ تم یہ عرضی اسی ترتیب سے سُنا دینا چنانچہ اس نے عرضی بڑی عمدگی سے سُنائی اور کہا حضور بڑی قابلِ توجّہ ہے اور ساتھ سَو روپیہ رکھ دیا کہ اس نے مجھے رشوت دیا ہے۔رئیس کے دِل میں عظمت بیٹھ گئی کہ یہ کیسا ایمان دار آدمی ہے۔مَیں اُسے جانتا تھا کہ وہ بڑا حرام خور ہے۔مَیں نے کہا۔یہ کیا ؟ کہا مولوی صاحب آپ نہیں جانتے یہ سَو روپیہ ظاہر کر دیا اِس سے پچھلا توہضمہو جائے گا اور آئندہ کے لئے راہ کھُل جائے گا یہ راجہ لوگ تو اُلّو ہوتے ہیں ہم نے اِس جُملہ سے اپنا اُلّو سیدھا کر لیا۔دیکھو میرے جیسا شخص اگر خائن ہو جائے تو ہزاروں روپے کما سکتا ہے مگر آخرت پر ایمان ہے جو اِس بات کا وہم تک بھی آنے نہیں دیتا۔مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ فاتح ہونے میں بڑائی نہیں بلکہ ایمان باﷲ و ایمان بالیَوم الآخر میں بڑائی ہے۔پھر ملائکہ پر ایمان ہو جو تمام نیک تحریکوں کے مرکز ہیں۔پھر اﷲ کی کتابوں