حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 292
: گردنوں کو چھُڑانے سے مراد غلاموں کا آزاد کرنا ہے۔ایک دفعہ ایک غیر مذہب کا شخص بڑے زور سے کہہ رہا تھا غلاموں کی آزادی دلانے والا عیسائی مذہب ہے۔مَیں نے کہا کہ مسیح ناصریؐ نے کوئی قانون ان کے لئے نہیں بنایا نہ کوئی حصّہ مقرر کیا مگر ہماری شریعت میں قانون ہے جو اِن آیات میں مذکور ہے اور پھر بَیت المال - ۱ ۸حصّہ ان کے لئے مقرر ہے۔چھ مَصرفوں کا ذکر تو یہاں کیا اور پارہ ۱۰ میں دو ۲ مصرف اَور بتائے ہیں ایک مؤلفۃ القلوب۔میرے نزدیک اِس زمانہ میں بھی یہ بہت ضروری ہے۔دومؔ اس محکمہ زکوٰۃ کے جو ملازم ہیں ان کی تنخواہ۔: وہ پاک عبادت جس کا نام نمازہے غفلتوں ، سُستیوں ، ناکامیوں میں اسے قائم رکھے۔: زکوٰۃ دے۔تزکیۂ نفس بھی کرے۔: باساء کہتے ہیں غریبی ، تنگ دستی کو۔یہ بُری بلاء ہے۔کسی کے گھر میں شادی ہو۔غریب کے گھر میں بیوی بچّوں کے اصرار کی وجہ سے جو وہ کپڑوں اور زیوروں کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ماتم ہو رہا ہے۔امراء میں عید ہے مگر غریب کے گھر رونا پڑا ہؤا ہے مگر مومن ان مشکلات کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔پھر اس سے بڑھ کر مشکل ایک اَور ہے۔: وہ کیا ہے۔بیماری۔چاہے کانٹا ہی کیوں نہ چُبھا ہؤا ہو۔پیٹ میں کیوں نہ درد ہو۔آنکھ ہی دُکھتی ہو سارا جہان مریض کے لئے اندھیرا ہو جاتا ہے اور دولت ، بیوی ، بچّے ، عیش و عشرت کے سامان سب بُرے معلوم ہوتے ہیں۔ایک شخص میرے پاس آیا کہ بیوی حسین موجود ہے قوّتِ رجولیّت نہیں خودکشی کر لوں گا اگر تم نے کوئی امّید نہ دلائی۔دیکھو کیسا نازک مقام ہے مگر مومن نہیں گھبراتا وہ اِستقلال و استقامت سے رہتا ہے۔پھر اِس سے بھی بڑھ کر ایک اَور مصیبت ہے۔: وہ ہے مقدمات کی۔(خواہ جہاد شمشیر کی صورت میں ہو۔خواہ جہاد قلم کے رنگ میں ہو) یہ بہت بُری بَلاء ہے۔دیکھو جنگوں میں کتنی سلطنتیں تباہ ہوئیں۔کتنی مقروض ہوئیں۔کتنے جو ان سپاہی اور سپہ سالار ہلاک ہوئے۔ایسے وقت سچّا مومن وہ ہے جو مستقل مزاج رہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان یکم اپریل ۱۹۰۹ء) حُسنِؔ اعتقاد و حُسنِ ؔ اقوال و حُسنِؔ اعمال اور فقر،بیماریؔ، مقدماتؔ و مشکلاتؔمیں صبرؔ واستقلال اِس مجموعہ کو قُرآن نے تقوٰی کہا ہے۔دیکھو رکوع لَیْسَ الْبِرَّ پارہ دوم اور اس کا ایک درجہ سورہ بقرہ کے ابتداء میں ہے جیسے فرمایا ہے کہ اَلْغَیْب پرایمان لاوے۔پرارتھنا اور دُعا اور بقدر ہمّت و