حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 284 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 284

غرض ایک راستباز کی شناخت کے لئے کبھی کوئی مشکل یہود یا نصارٰی یا منکرین امام پر نہ آتی اگر وہ سمجھتے کہ پاک رسولؐ نے کیا دعوٰی کیا۔  مثال ان لوگوں کی جوبے ایمان ہیں ایسی ہے جیسی کسی پر کوئی آوازے کَستا ہے اور وہ سُنتا ہی نہیں۔میرے ایک نوجوان دوست تھے مَیں ان کو درس قرآن شریف سُننے کی تاکید کرتا تھا۔وہ میرے سامنے تو نہ کہتے مگر میرے پیچھے اپنے اِس خیال کا اظہار کر دیا کرتے تھے کہ آسُودگی ہو تو پھر قُرآن بھی پڑھیں۔آخر جب وہ کسی عہدہ پر ممتاز ہوئے تو مجھے لکھا کہ بارہ برس ہوتے ہیں کہ مَیں قرآن شریف نہیں پڑھ سکا۔خدا کرے تم لوگ ایسے نہ بنو کہ تمہارا قرآن سُنانے والا ایسے لوگوں سے ہو کہ اس کے سامعین ایسے ہوں جو نہ آنکھیں رکھتے ہوں کہ دیکھیں، نہ کان رکھتے ہوں کہ سُنیں ، نہ زبان رکھتے ہوں کہ حق بولیں۔تم قرآن شریف سُننے کو غنیمت سمجھو۔دُنیا کے جھمیلے تو کبھی کم ہونے میں آ نہیں سکتے۔ایک کتاب میں مَیں نے ایک مثال پڑھی ہے کہ ایک شخص ندی سے گذرنا چاہتا تھا اُس نے تامّل کیا کہ یہ موج گزر جائے تو مَیں گزروں مگر اتنے میں ایک اَور آ گئی۔آخر وہ اسی طرح خیال کرتے کرتے رہ گیا۔بس طریق یہی ہے کہ حلال طیّب کھاؤ۔طیّب کہتے ہیں اسے جو انسان کے لئے دُکھ نہ دے اور پھر شُکر کرو۔سات اصول بتائے ہیں ان کو ہر وقت زیرِ نظر رکھو۔حلالطیّب کھاؤ۔سُوء و فحشاء و تقوّل نہ ہو۔تقلید بے جا نہ ہو۔کبھی ایسے رنگ میں اپنے تئیں نہ بناؤ کہ گو ش حق کے شنوا، آنکھیں حق کی بینا نہ رہیں۔یہاں تک یہ بیان فرمایا ہے کہ حق کے حصول کا ذریعہ حلال و طیّب روزی ہے۔اِنسان فاقے پر فاقہ اُٹھائے مگر حلال کا رزق کھائے۔جو مالدار ہیں ان کی حالت نہایت نازک ہے۔غضب