حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 247
ہوں گے جو تمہارا اور اسحٰقؑ اور ابراہیمؑ کا معبود تھا۔ ہم ہمیشہ اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔پس یہ حق وصیّت کا ہے اور تمام وعظوں کا عطر اور اصل مقصد یہی ہے جو تمہارے سامنے پیس کیا ہے اور یہ وصیّت ہے اس شخص کی جوابوالانبیاء اور ابوالُحنفاء اور اسی کی وصیّت کو مَیں نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے پس تم اپنے کھانے پینے، لباس، محبت ، رنج، راحت، عُسر، یُسر، افلاس، د ولتمندی، موت اور مرض ، مقدمات وصُلح میں اس اصول کو مدِّ نظر رکھو کہ اﷲ کی فرمانبرداری سے کوئی قدم باہر نہ ہو۔پس یہ وصیّت تمام وصیّتوں کی ماں ہے اﷲ تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ ہر حال میں تمہیں اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری مدِّنظر ہو اور یہ ہو نہیں سکتی جب اﷲ تعالیٰ سے بغاوت ہو اور یہ بھی بغاوت ہے کہ اﷲ تعالیٰ ایک کو بڑا بناتا ہے اور اس کو برگزیدہ کرتا ہے مگر یہ اس کی مخالفت کرتا اور اس سے انکار کرتا ہے۔برہموؤں نے اسی قِسم کا دعوٰی کیا ہے جو وہ رسالت اور نبوّت کے مُنکر ہیں۔یہ بغاوت ہے۔اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ مطاع ہوا اور وہ گویا ارادۂ الہٰی کا دشمن اور باغی ہے۔پس کی دعا کرو۔علوم پر ناز اور گھمنڈ نہ کرو۔رنج راحت میں اور عُسر یُسر میں قدم آگے بڑھاؤ۔(الحکم جلد ۷ نمبر ۲۔۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء) : فرماتا ہے کہ یہودی و نصرانی بننے میں بھلائی نہیں بلکہ مومن کی شان یہ ہے کہ فرمانبرداری کرے جس جس وقت جنابِ الہٰی کوئی حکم دیں مان لے۔اس میں ان لوگوںکا رَدّ بھی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی کو مانتے ہیں ہمارے پاس کتاب ہے ہمیں کسی اَور امام یا مجدّد یاہدیت یا وحی کی ضرورت نہیں۔مومن کی شان تو یہ ہے کہ ہم ایمان لائے جو پہلے اُتر چکا اور جواَب ہماری طرف اُترا۔ہم اَب کبھی نہیں کریںگے کہ بعض احکام کو یا انبیاء کو مانیں اور بعض کو نہ مانیں۔سوائے اِسلام کے کسی نے اِس اصل سے فائدہ نہیں اُٹھایا کہ اپنے سے پہلے تمام انبیاء اور