حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 238
پر وہ حاجتیں مال و جان کی ہوں عزّت و آبرو کی ہوں۔غرض دُنیا کی ہوں یاد ین کی اس کے تقرّب اِلی اﷲ کا باعث ہو جاتی ہیں کیونکہ جب وہ دعائیں کرتا ہے اور ایک سوزورِقّت اور دل گداز طبیعت سے باب اﷲ پر گِرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بابِ شکر اُس پر کُھلتا ہے اور پھر وہ سجداتِ شکر بجا لا کر از دیا دِ نعمت کا وارث ہوتا ہے جو ثمراتِ شکر میں ہیں اور اگر کسی وقت بظاہر ناکامی ہوتی ہے تو پھر صبر کے دروازے اس پر کُھلتے ہیں اور رضا بالقضا ء کے ثمرات لینے کو تیار ہوتا ہے اِسی طرح یہ حاجتیں جب کسی بدبخت انسان کو آتی ہیںاور وہ مالی، جانی یا اَور مشکلات میں مُبتلا ہوتا ہے تو یہ حاجتیں اَور بھی اس کی اور مہجوری کا باعث ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ بیقرار مُضطرب ہو کر قلق کرتا اور ناامید اور مایوس ہو کر مخلوق کے دروازہ پر گِرتا ہے اس وقت اﷲ تعالیٰ سے ایسا بیگانہ اور ناآشنا ہوتا ہے کہ ہر قِسم کے فریب و دغا سے کام لینا چاہتا ہے اگر کبھی کامیاب ہو جائے تو اس کو اﷲ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ذکر اور اس کی حَمد و ستائش کا موقع نہیں ملتا بلکہ وہ اپنی کرتُوتوں اور فریب و دغا اور چالبازیوں کی تعریف کرتا اور شیخی اور تکبرمیں ترقّی کرتا اور اپنی حیل و تجاویز پر عجب و ناز کرتا ہے۔اگر ناکام ہوتا ہے تو رضا بالقضاء کے بدلے اس کی مقادیر کو کو ستا اور بُری نگاہ سے دیکھتا اور اپنے ربّ کا شکوہ کرتا ہے۔غرض یہ حاجتیں تو سب کو ہیں اور انبیاء اولیاء و صدّیقوں اور تمام مُنعَم علیہ گروہ کیلئے بھی مقدّر ہوتی ہیں مگر سعید الفِطرت کیلئے وہ تقرّب اِلی اﷲ کا باعث ہو جاتیں اور اس کو مزید انعامات کا وارث بنا دیتی ہیں اور شقّی مُضطرب ہو کر قلق کرتا ہے اور ناکام ہو کر سخط علی اﷲ کر بیٹھتا ہے کامیابی پر وہ مُبتلا فی الشِّرک ہو جاتے ہیں اور ناکامی پر مایوس۔مشکلات اور حوائج کیوں آتے ہیں۔ان میں باریک در باریک مصالح الہٰیہ ہوتے ہیں کیونکہ مشکلات میں وسائط کا مہیّا کرنا تو ضروری ہوتا ہے۔اِس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ (النّساء:۸۶) کا ثواب لینا بھی کیسی نعمتِ الہٰی ہے اور پھر ان میں حکمت ہوتی ہے کہ ان خدمات کے ثمرات مساعی جمیلہ ان کی فِکر اور محنت پر اﷲ تعالیٰ کو انعام دینا منظور ہوتا ہے اور اِس طرح پر نہ سننِ الہٰی باطل ہوتے ہیں اور نہ سلسلہ علمِ ظاہری کا باطل ہوتا ہے۔غرض سچّا اور پکّا مومن وہ ہوتا ہے جیسا کہ حضرت امام نے شرائطِ بیعت میں لکھا ہے کہ رنج میں ، راحت میں، عُسرمیں، یُسر میں قدم آگے بڑھا وے اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان امور کا پیش آنا ضروری ہے تو ہر ایک حالت میں فرمانبردار انسان کو چاہیئے کہ ترقّی کرتا رہے اور دعاؤں کی طرف توجّہ کرے تا کامیابی کی راہیں اسے مِل جائیں اور یہ ساری باتیں ابراہیمی مِلّت کے اختیار کرنے سے