حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 231 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 231

اُن اعتراضوں سے کہ بشاراتِ مسیحؔپر انہوں نے کئے ہیں زیادہ زور آور نہیں ہیں چنانچہ اس بشارت پر یہ اعتراض کیا ہے ’’ اسحاقؑ کی نسبت روحانی وعدہ ہے اور اسمٰعیلؑ کی نسبت جسمانی ‘‘ اگرچہ اس کا جواب ابھی ہو چکا ہے اِلَّا مزید توضیح کے لئے کِسی قدر تفصیل کی جاتی ہے۔ہم اسمٰعیلی اور اِسحاقی وعدوں کو بمقابلہ یک دگر تو رات سے جمع کر کے ناظرین با انصاف کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کے نورِ ایمان اور انصاف سے پوچھتے ہیں کہ کِس طرح سے وہی وعدہ اسمٰعیلؑ کے حق میں توجسمانی اور اسحٰقؑ کے رنگ میں رُوحانی ہو سکتا ہے اور چونکہ باری تعالیٰ کے وعدے ابراہیمؑ کے ساتھ دو طرح کے ہیں ایک عام طور پر ابراہیمؑ کی اولاد کے لئے اور ایک خاص طور پر اسمٰعیلؑ اور اسحٰقؑ کے لئے۔اِس لئے قبل از مقابلہ ہم مشترکہ وعدے بیان کریں گے کیونکہ وہ وعدے جیسے اسحٰقؑ کے حق میں ہیں ویسے ہی اسمٰعیلؑ کے حق میں بھی ہیں۔اگر اُن سے اسحٰقؑ کو ترجیح ہو سکے تو انہیں سے اسمٰعیلؑ کو بھی ہو سکتی ہے۔اگر یہ وعدے روحانی ہیں تو اسحٰقؑ اور اسمٰعیلؑ دونوں کے لئے اور اگر جسمانی ہیں تو بھی دونوں کے لئے۔اور اگر عام ہیں۔رُوحانی ہوں یا جسمانی۔تو بھی دونوں کیلئے۔مُشترکہ وعدے ۱۔’’جب ابراہیمؑ کنعان میں پہنچا تو خدا نے کہا یہ زمین مَیں تیری اولاد کو دوں گا۔‘‘(پیدائش باب ۱۲:۷) ۲۔’’ جب ابراہیمؑ لُوط سے جُدا ہوئے خدا نے کہا آنکھیں کھول چاروں طرف کی زمین تیری اولاد کو دوں گا۔‘‘ (پیدائش ۱۳ باب۱۴ تا۱۶) ۳۔’’ مصر سے فرات تک کی زمین مَیں تیری اولا کو دوں گا۔‘‘ (پیدائش باب۱۵:۱۸) ۴۔’’ تیری اولاد کو وسیع اور بے شمار کروں گا۔‘‘ (پیدائش باب۱۵:۵) ۵۔’’جب ابراہیمؑ ننانوے برس کے ہوئے خدا نے وعدہ کیا کہ تجھے زیادہ سے زیادہ کروں گا۔تجھ سے قومیں پیدا ہوں گی اور بادشاہ ہوں گے اور کنعان کی زمین بوراثت دائمی تجھ کو دوں گا۔‘‘ (پیدائش ۱۷ باب ۶تا۸) یہ وہ وعدے ہیں جو ابراہیمؑ کی اولاد کے لئے مشترکہ ہیں اور یہ خدا کے سچّے وعدے دونوں بھائیوں اسمٰعیلؑ اور اسحٰقؑ کے حق میں ظاہر ہوئے۔کنعان کا ملک ایک زمانے تک بنی اسحٰقؑ کے قبضے میں رہا پھر تیرہ سَو برس سے آج تک بنی اسمٰعیلؑ یا اُن کے خادموں کے قبضے میں ہے۔ایسا ہی وہ مُلک جو لُوط کے جُدا ہوتے وقت ابراہیمؑ نے دیکھا اور ایسے ہی مصر سے فرات تک کا ملک