حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 230
اِن آیاتِ قُرآنی ( ۱۲۷ تا ۱۳۰) کو آیاتِ توریت سے تطبیق دی جاتی ہے۔توریت میں لکھا ہے حضرت حق سُبحانہ، تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے آپ کے پلوٹھے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ کی نسبت وعدہ فرمایا: ’’ مَیں نے تیری دعا اسمٰعیلؑ کے حق میں قبول کی۔دیکھ مَیں اُسے برکت دوںگا اور اسے بُردمند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اُس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور اس سے بڑی قوم بناؤں گا۔‘‘ کتب سابقہ کے ناظرین اور الہامی مضامین پر گہری نگاہ کرنے والے اگر انصاف سے دیکھیں تو یہ پیشگوئی صاف محمدؐ بن عبداﷲ بن اسمٰعیل بن ابراہیم کے حق میں ہے۔اِس بشارت میں کئی امور غور طلب ہیں۔اوّلؔ:۔’’برکت دوںگا، بُردمند کروں گا، بہت بڑھاؤں گا‘‘ نہایت انصاف سے دیکھنے کو مجبور کرتے ہیں اور بڑی بلند آواز سے کہتے ہیں کہ اسمٰعیلی وعدوں کو جسمانی مت کہوں۔صرف جسمانی وعدے میں برکت اور فضیلت نہیں بلکہ بالکل نہیں۔وہ تو موت کے گہرے کنوئیں میں رہنے کا باعث ہے۔منصفو! کیا اگر ابراہیم علیہ السلام کی اولاد بُت پرست، رہزن، چور، جاہل ، بدتہذیب، قمار باز، زانی، مکّار، بدکار ہی رہتی تو حضرت اسمٰعیلؑ کو کوئی عاقل کہہ سکتا کہ تُو بُرد مند ہؤا، تجھے برکت ملی، تجھے فضل عطا ہؤا ، تجھ سے بڑی قوم بنی۔ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی اولاد میں ایک زبردست رسول پَیدا ہؤا جس نے اُس متفرّق گروہ کو ایک قوم بنایا۔اِسی کے وسیلے سے وہ قوم بُردمند ہوئی اور اُسے یہا ںتک بڑھایا کہ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ کہہ کراَبدالآباد تک ہر مُلک اور ہر جنس کی آئندہ آنے والی نسلوں کو اُن کی ترقی کا ضمیمہ بنایا۔فداہ ابی و امّی ، صلی اﷲ علیہ وسلم۔دومؔ:۔جو بشارات عہدِ جدید میں حواریوں اور اناجیل کے مصنّفوں نے مسیحؑ کی نسبت خیال کر کے مندرج کی ہیں وہ سب کی سب اَدنیٰ لگاؤ اور ابہام سے بڑھ کر کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔یہاں نہ صرف لگاؤ ہی لگاؤ بلکہ تصریح و توضیح موجود ہے کہ بنی اسمٰعیل ( قومِ عرب) فضیلت والے، برکت والے، بُردمند۔امام قوم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد برکت مہد میں ہوئے۔سومؔ:۔فضیلت اُسی وقت پوری فضیلت ہوتی ہے جب اپنے اقران و امثال پر ہو اور تمام عالَم شاہد ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے عرب اور حجاز والوں نے بنی اسرائیل پر کبھی علو حاصل نہیں کیا۔متعصّب عیسائی نبیٔ عرب کی بشارات پر ہمیشہ اعتراض کرتے رہے ہیں جو یہودیوں کے