حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 223 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 223

  لَوْ لَا یُکَلِّمُنَا اﷲُ:یعنی اﷲ ہمیں کیوں الہام نہیں کرتا۔اِس کی مثال یہ ہے جیسے کوئی جاہل جٹ کہے کہ بادشاہ پیادوں کی معرفت احکام بھیجتا ہے خود کیوں ہم سے مطالبہ نہیں کرتا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۱؍مارچ ۱۹۰۹ء)     الحمد شریف میں تین قوموں کا ذکر ہے ایک کا۔ایک مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْکا اور ایک ضَآلِّیْن کا۔قرآن کریم نے یہاں تک ان تین گروہوں کا رنگ برنگ میں ذکر کیا ہے۔رکوع اوّل میں بتایا کہ  کا دوسرا نام متعیْن ہے ان کو انعام ملتا ہے۔اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنپھر مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ کا ذکر فرمایا ہے اور ان کا وعید بیان کیا۔اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ پھر ضَآلِّیْن کا ذکر کیااُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُ الضَّلٰلَۃَ ان کی سزا ہے۔فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُھُمْرکوع سوم میں فرمایا ہے کہ قرآن کریم پر عمل کرنے سے مُنعم علیہم بن جاؤ گے اور اس کے خلاف کرنے کی سزا دوزخ کی آگ ہے۔وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ۔پھرضَآلِّیْن کا ذکر فرمایا کہ مَا یُضِلُّ بِہٖ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ۔رکوع چہارم میں ایک مُنعم علیہ (آدم) ایک مغضوب و ضال شیطان