حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 210
کے فر ض میں داخل تھا کہ یہ لوگ برباد ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل نجات پا کے اپنے ملک میں جائیں۔پس ہاروت ماروت نبیوں کی معرفت ایسی باتیں سکھاتے تھے اور ساتھ یہ ہدایت کرتے تھے کہ ان تجاویز کو یہاں تک مخفی رکھو کہ اپنی بیبیوں کو بھی نہ بتاؤ کیونکہ عورتیں کمزور مزاج کی ہوتی ہیں اور ممکن بلکہ اغلب ہے کہ وہ کِسی دوسرے سے کہہ دیں۔پس اس تعلیم کو پوشیدہ رکھنے کے لحاظ سے میاں بی بی میں بھی اِفتراق ہو جاتا تھا۔یعنی میاں اپنی بیوی کو اس راز سے مطلع نہ کرتا تھا۔اور پھر جب یہ بات پختہ ہو گئی تو میدوفارس کے ذریعہ بابل تباہ ہو گیا اور خدا نے بنی اسرائیل کو بچا لیا مگر جتنا ضرر دشمنوں کو پہنچایا گیا چونکہ اﷲ کے اِذن سے تھا اِسی واسطے وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔اب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جب مدینہ طیّبہ میں تشریف لائے تو مکّہ والوں کو بڑا غیظ و غضب پَیدا ہؤا۔پس انہوں نے یہودیوں سے دوستی گانٹھی اور یہودی وہی پُرانا نسخہ استعمال کرنے لگے کہ آؤ کِسی بادشاہ سے مِل کر اس محمدی سلطنت کا استیصال کریں اسی واسطے ایرانیوں سے توسل پَیدا کیا۔یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ایرانیوں کے گورنر بعض عرب کے مضافات میں بھی تھے۔انہوں نے اپنے بعض آدمی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کے لئے بھی بھجوائے مگر کچھ کامیابی نہ ہوئی۔اسکی وجہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آگے تو تم اے یہود یو!خدا کے حکم سے ایسے منصوبوں میں کامیاب ہوئے تھے۔اب تم چونکہ یہ نسخہ اﷲ تعالیٰ کے رسول کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہو اِس لئے ہرگز کامیاب نہ ہو گے۔چنانچہ چند آدمی شاہ فارس کی طرف سے گرفتار کرنے آئے آپ نے ان کو فرمایا مَیں کل جواب دوں گا۔صبح آپؐ نے فرمایا کہ جس نے تمہیں میری طرف بھیجا ہے اُس کے بیٹے نے اسے قتل کر دیا ہے۔وہ یہ بات سُن کر بہت حیران ہوئے۔بات میں بات آ گئی ہے ہر چند کہ وہ ایسی عظیم الشّان نہیں ہے۔وہ یہ کہ جب دو ایلچی نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے حضور آئے تو صبح صبح داڑھیاں مُنڈوا کر آئے۔آپ نے فرمایا یہ تم کیا کرتے ہو۔ہم اِس امر کو کراہت کے ساتھ دیکھتے ہیں ( جہاں اُوپر کاقِصّہ لکھا ہے وہاں یہ بات بھی ہے خیر) اورخائب وخاسر واپس پھرے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَب یہ یہودی ایسی باتیں سیکھتے ہیں جو ان کو ضرر دیتی ہیں ان کے حق میں مفید بالکل نہیں ہیں۔جو اَب یہ کرتے ہیں آخرت میں ان کے لئے کوئی حصّہ نہیں۔ہارون ماروت نے جو سکھایا تھا وہ چونکہ نبیوں کے حکم کے ماتح تھا اس لئے کامیابی کا موجب ہؤا۔لیکن اَب چونکہ اسکی نافرمانی میں وہ ہتھیار چلتا ہے اِس لئے کچھ کام نہ دے گا۔ل کیا اچھا ہوتا کہ وہ ایسی بُری شَے کے بدلے