حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 126 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 126

جو مومنوں میں سے خلیفہ ہوتے ہیں ان کو بھی اﷲ ہی بناتا ہے۔ان کو خوف پیش آتا ہے مگر خدا تعالیٰ ان کو تمکنت عطا کرتا ہے۔جب کسی قِسم کی بَدامنی پھیلے تو اﷲ ان کے لئے امن کی راہیں نکال دیتا ہے۔جو اُن کا مُنکر ہو اس کی پہچان یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ دینی کاموں سے رہ جاتا ہے۔جناب الہٰی نے ملائکہ کو فرمایا کہ مَیں خلیفہ بناؤں گا کیونکہ وہ اپنے مقرّبین کو کسی آئندہ معاملہ کی نسبت جب چاہے اطلاع دیتا ہے۔ان کو اعتراض سُوجھا جو اَدب سے پیش کیا۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھے کہا حضرت صاحب نے دعوٰی تو کیا ہے مگر بڑے بڑے علماء اس پر اعتراض کرتے ہیں۔مَیں نے کہا وہ خواہ کتنے بڑے ہیں مگر فرشتوں سے بڑھ کر تو نہیں۔اعتراض تو انہوں نے بھی کر دیا اور کہا َکیا تُو اسے خلیفہ بناتا ہے جو بڑا فساد ڈالے اور خون ریزی کرے۔یہ اعتراض ہے مگر مَولیٰ! ہم تجھے پاک ذات سمجھتے ہیں، تیری حَمد کرتے ہیں، تیری تقدیس کرتے ہیں۔خدا کا انتخاب صحیح تھا مگر خدا کے انتخاب کو ان کی عقلیں کب پا سکتی تھیں۔(الفضل ۱۷؍ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) ایک خلیفہ آدم تھا اُس کی نسبت فرمایا ہے۔اَب خود ہی اس کے بارے میں ارشاد ہے  (طٰہٰ:۱۲۲) لیکن جب فرشتوں نے کہا  َ َ َ توان کو ڈانٹ پلائی کہ تم کون ہوتے ہو ایسا کہنے والے۔پس فَاآدم کو سجدہ چنانچہ ان کو ایسا کرنا پڑا۔دیکھو خود تو عاصی اور غوی تک کہہ لیا مگر فرشتوں نے چُوں کی تو اس کو ناپسند فرمایا۔مَیں نے کِسی زمانہ میں تحقیقات کی ہے کہ نبی کے لئے لازم نہیں کہ اس کے لئے پیشگوئی ہو اور خلیفہ کیلئے تو بالکل ہی لازمی نہیں۔دیکھو آدم پھر داؤد علیہ السلّام کے لئے کیا کیا مشکلات پیش آئے۔مَیں اس قِسم کا قِصّہ گو واعظ نہیں کہ تمہیں عجیب عجیب قصّے ان کے متعلق سُناؤں مگر (ص ٓ:۲۵) سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو تھا جس کے لئے یہ الفاظ آئے۔تیسرا خلیفہ ابوبکرؓ ہے اس کے مقابلہ میں شیعہ جو کچھ اعتراض کرتے ہیں وہ اتنے ہیں کہ ۱۳۰۰ برس گذر گئے مگر وہ اعتراض ختم ہونے میں نہیں آئے۔ابھی ایک کتاب مَیں نے منگوائی ہے جس کے ۷۴۰ صفحات میرے پاس پہنچے ہیں۔اِس میں صرف اتنی بات پر بحث ہے کہ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ بہتر ہے یا ابوبکرؓ۔پھر شیعہ کہتے ہیں کہ ان کے متعلق نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے کچھ پیشگوئی نہ فرمائی۔چوتھا خلیفہ تم سب