حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 112 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 112

کڑک اور بَرق یعنی بجلی۔نادان انسان اپنی اُنگلیاں کانوں میں کر لیتے ہیں موت سے بچنے کے لئے۔مگر ایسے لوگ واقعی کم عقل ہیں کیونکہ سائنسدان جانتے ہیں کہ بجلی بہت تیز ہے وہ روشنی سے بھی پہلے پہنچتی ہے اور آواز اس کے بعد آتی ہے چنانچہ چھاؤنیوں میں جہاں توپ دغتی ہے وہ جانتے ہیں کہ چمک پہلے پہنچتی ہے اور آواز اس کے پیچھے اسی طرح بجلی کی آواز کا حال ہے۔آواز پہنچنے پر اُنگلیاں کانوں میں کرنے اور چُھپ جانے والا بیوقوف ہے کیونکہ جو مار بجلی نے کرنی ہوتی ہے وہ تو اس سے پہلے کر چکتی ہے۔منافق کی طبیعت کا حال بارش کی مثال سے کھلتاہے جب بارش آتی ہے تو جو لوگ ندیوں کے کنارکے پر ہیں یا جن کے مکان کچّے ہیں اور لپائی ٹھیک نہیں یا جنہوں نے نمک خرید رکھا ہے اُن کو بہت خطرہ ہوتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو اس بارش کو اپنے لئے رحمت سمجھتے ہیں انہوں نے بجلی کی روک کے لئے سلاخیں اور تانبے کے تار کنوئیں میں ڈال رکھے ہوتے ہیں وہ بہرحال خوش حال ہوتے ہیں۔اِسی طرح کمزور انسان زمانے کے حوادث کی تاب نہ لا کر ایمان سے دُور چلے جاتے ہیں۔بعض وقت غریبی کے سبب خدا کو کوستے ہیں۔لڑکا مَر جاتا ہے تو خدا کو گالیاں دیتے ہیں۔ایسے نابکار بھی مَیں نے دیکھے ہیں جو خدا کی خدائی پر الزام دیتے ہیں اور تھوڑی سی مصیبت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ایک شاعر کا ذکر کرتے ہیں کہ اس نے شعر کہاجو اس کی نظر میں خاص طور سے قابلِ انعام تھا اور اس نے سُنا تھا کہ سعدیؒنے ایسا ایک شعر کہا تھا تو اُسے خاص طور سے انعامِ الہٰی ملے تھے۔پس اِس امّید پر اس نے آسمان کی طرف مُنہ اُٹھایا۔اِتفاق سے ایک چیل کی بیٹ مُنہ میں پڑ گئی اِس پر وہ بول اُٹھا کہ شعر فہمیٔ عالمِ بالا معلوم شُد۔غرض ایسے ایسے نادان لوگ ہوتے ہیں بعض خدا کا اَدب کرتے تو گردشِ دار اور زمانہ کو کوستے ہیں مگر اس کوسنے کا فائدہ کیا۔اﷲ جلّ شانہ‘ نے یہ بات فرمائی کہ مینہ پڑتا ہے اس میں کڑک بھی ہوتی ہے بجلی بھی ہوتی ہے اندھیرے بھی ہوتے ہیں اس پر نادان تو غیر محل وغیر موقع پر اپنے بچاؤ کے سامان کرتے ہیں مگر وہی بارش بُہتوں کے لئے مفید ہوتی ہے اسی طرح احکامِ شرع اور دُنیا کی مصیبتیں جب نازل ہوں تو بہت سے لوگ ایمان لاتے ہیں اور مشکلات میں گھبراتے نہیں۔ایک جذامی کا حال مجھے معلوم ہے کہ مَیں نے اسے کہا کہ آپ کے علاج کا مجھ میں ایک جوش پیدا ہو گیا ہے۔اُس نے کہا کہ رہنے دیجئے مَیں تو جس حال میں ہوں خوش ہوں۔تنہائی ہے لوگ کم آتے ہیں دُعاؤں کا موقع ملتا رہتا ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ گھبرا جاتے ہیں اور خدا کو کوستے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ