حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 111
نہ حق کا بِینا ہلاکت کی طرف سے مُڑ کر نیک راہ پر نہیں آ سکتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍فروری ۱۹۰۹ء) اَوْ۔دو چیزوں میں سے ایک کیلئے آتا ہے یعنی یہ یا وہ۔اور کبھی بمعنے بَلْ یعنی کبھی اسکے معنے بلکہ کے ہوتے ہیں اور گاہے بمعنی واؤ یعنی بمعنے اَور آتا ہے۔پس اگر پہلے معنوں میں آئے تو گاہے شک پیدا ہوتا ہے اور گاہے ابہام و اجمال اور گاہے تفصیل ہوتی ہے، خبر میں، خواہ وہ تفصیل واقعی ہو یا متکلّم کے اِعتبار کے موافق ہو اور جب بمعنی واؤتو اس سے اباحت اور تخییر پیدا ہوتی ہے، انشاء میں ، اور یہاں پر دو امر میں ایک کے لئے ہے اور متکلّم کے اعتبار کے مطابق تفصیل ہے۔حَیَّبؔ کہتے ہیں بارش کو۔یہ صَوْب سے بنایا ہوا ہے اور صَوب کہتے ہیں نازل ہونے کو۔سماءؔ کہتے ہیں ہر ایک بلند شئے کو جو کہ انسان کے اُوپر ہو۔یہ سمّو سے ہے جو کہ صورت اور معنے کی رُو سے علوّ کی مانند ہے اور مِنْ کے معنے ’’ میں سے۔‘‘ رَعْد ؔ بادل کے گرجنے کی آواز کو کہتے ہیں۔بَرْق ؔبجلی جو کہ بادل میں یا آسمان کے کناروں پر چمکا کرتی ہے۔یَجْعَلُوْنَ جَعَلَ سے ہے جو بمعنے’’رکھنے‘‘ کے ہے۔پس یَجْعَلُوْنَ کے معنے ہوئے ’’رکھتے ہیں‘‘۔صَیِّب مینہ کو کہتے ہیں۔صَیِّب کہتے ہیں نیچے اترنے اور جھکنے کو۔مینہ کا پانی چونکہ نیچے کو گرتا ہے اس لئے اس کا نام صَیِّبہے۔(رسالہ’’تعلیم الاسلام‘‘ قادیان بابت مارچ ۱۹۰۷ء) مِنَ السَّمآئِ یعنی اس مینہ کی طرح جو بادل سے گِر رہا ہو۔پھر وہ مینہ کِس وقت کا ہو جبکہ سُورج بھی نہیں ، چاند بھی نہیں، ستارے بھی نہیں۔اس پر بادلوں کا اندھیرا، اس میں رَعد ہے یعنی بجلی کی