انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 686
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸۶ سورة البينة متعلق تھی۔جزا اور سزا کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی نے کسی کو دکھ پہنچا یا ہو تو اس کے متعلق بھی جزا اور بدلہ کا سوال ہوتا ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے جو بنیادی حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ وَجَزْوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةُ مِثْلُهَا (الشوری: ۳۱) یعنی جتنی کسی نے بدی کی ہے جتنا دکھ کسی نے پہنچایا ہے جتنا ظلم کسی نے کیا ہے جتنا مال کسی نے غصب کیا ہے اس سے زیادہ اسے نقصان نہ پہنچاؤ، جتنی ٹھیں احساسات کو کسی نے پہنچائی ہے اتنی ٹھیس پہنچانے کی تمہیں اجازت ہے زیادہ کی نہیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۶۰۲ تا ۶۱۳ )