انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 670
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البينة کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جو بھی حکم ہو وہ اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتا ہے۔اس کے لئے یہ ممکن نہیں۔اسے یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ جو اللہ اسے کہے وہ نہ کرے۔پس ہر وہ چیز جو خدا کا حکم اس طرح مانتی ہے کہ اس کو انکار کا اختیار نہیں وہ فرشتوں کی صف میں آکھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پس کہا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ جہاں تک میرے احکام ، اوامر ونواہی کا تعلق ہے تم اخلاص کے ساتھ اور محض اللہ کے لئے ان کو اپنی زندگیوں میں قائم کرو تو تم میری عبادت بجالانے والے ہو گے ور نہ نہیں۔نفس کی خواہشات ہیں جن کو ہم ہوائے نفس کہتے ہیں۔سستیاں ہیں غفلتیں ہیں بے اعتنائی ہے۔عظمت باری ہے اور جلال باری کے احساس کا فقدان یا اس کی کمی ہے۔یہ ساری چیز میں انسان کو خدا تعالیٰ کے فرمودہ کے خلاف اور اس کے احکام کے خلاف لے جاتی ہیں۔پس خدا نے کہا کہ میں نے تمہیں اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور اس بات کا تقاضا یہ ہے کہ معاشرہ کے متعلق، اقتصادیات کے متعلق، سیاست کے متعلق یا جس دائرہ کے اندر بھی تمہیں غلبہ ملے یا تمہیں راعی بننے کی توفیق ملے اس کے اندر میرا حکم جاری ہونا چاہیے۔اگر تم اس دائرہ میں میرے حکم کے اجرا کی کوشش کرو گے تو تم میرے بچے اور حقیقی عبادت گزار بندے بنو گے ورنہ نہیں بنو گے۔پس پانچواں تقاضا اللہ تعالیٰ کی عبادت کا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے یہ ہے کہ اس کے حکم کو ہم قائم کرنے والے ہوں اور اوامر ونواہی کی نگرانی کرنے والے ہوں کہ ہمارے ماحول میں ہمارے نفسوں سمیت خدا کے حکم اور امر کے خلاف کوئی نہ جائے اور اس نے ہماری روحانی اور جسمانی ترقیات کے لئے جو پابندیاں ہم پر لگائی ہیں ان کا احترام کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلہ میں نفسانی خواہشات اور ارادوں کو کچھ نہ سمجھا جائے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کوئی دوسری ایجنسی، کوئی دوسرا گروہ یا جماعت اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی میں اپنے اثر ورسوخ کے نتیجہ میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم عبادت کے اس تقاضا کو پورا کرو گے تو تم اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آجاؤ گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ اصْبِرُ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا (الطور : ٤٩) جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی پر ثبات قدم دکھاتا ہے اور استقلال اور استقامت کے ساتھ ان پر قائم ہو جاتا ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِنَّكَ بِاعْيُنِنَا لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کا خیال نہیں رکھتا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں آسکتا۔