انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 631
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۳۱ سورة الم نشرح پڑے گی۔غرض اس طرح امت محمدیہ کی فردی اور اجتماعی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔پہلے دور کے بعد دوسرا، پھر تیسرا، پھر چوتھا وَ عَلى هذ القِیاس لیکن جس وقت امت محمدیہ نے فرغت پر عمل کیا لیکن فانصب پر عمل نہیں کیا وہ سمجھے کہ ہم ساری دنیا کے حاکم بن ن گئے۔اب ہمیں فانصب پر عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے تو تباہ ہو گئے مثلاً پین اسلامی سلطنت کا ایک حصہ تھا اور اس پر مسلمان حکومت کرتے تھے۔مگر کجا یہ کہ طارق کی فوج بارہ ہزار کے قریب تھی اور اس نے پین میں جا کر ایک لحاظ سے سارے یورپ کے ساتھ ٹکر لی اور انتہائی قربانی دی۔وہاں سمندر کے ساحل پر کشتیاں نہیں جلائی گئی تھیں وہاں خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت کے شعلے بھڑ کے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ یہ دنیوی قربانیاں کیا چیز ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کے شعلوں میں ہر چیز کو جلا دیتے ہیں تا کہ ہمیں اس کے پیار کی ٹھنڈک ملے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے پیار کی ٹھنڈک پہنچائی۔جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی مٹھی بھر فوج کے سامنے عیسائی فوج نہیں ٹھہری اور وہ شکست کھا گئی حالانکہ سارے یورپ والے مسلمانوں کو مٹانے کے لئے اکٹھے ہو گئے تھے۔خود سپین کے عیسائی بادشاہ کے پاس بے تحا شا فوج تھی۔اسی طرح ترکی کی طرف سے مسلمان پولینڈ تک چلے گئے۔چنانچہ اس دور میں جب فرغت کے ساتھ ساتھ فانصب پر بھی عمل ہو رہا تھا۔ہر وہ طاقت جس نے مسلمانوں سے ٹکر لی نا کام ہوئی اور ہر وہ دشمن جس نے اسلام کو مٹانے کی کوشش کی ہلاک ہو گیا۔پھر مسلمانوں پر ایک وقت ایسا آیا کہ جب انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب ساری دنیا ہمیں مل گئی۔ہم نے اجتماعی زندگی میں جو کام کرنا تھا وہ کر لیا اس لئے اب ہمیں قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں رہی حالانکہ یہ نہیں سوچا کہ امت محمدیہ کی اجتماعی زندگی تو قیامت تک ممتد ہے۔قیامت سے پہلے تو امت محمدیہ کی اجتماعی زندگی ختم نہیں ہوتی۔اس واسطے امت محمدیہ کی اجتماعی زندگی میں کوئی ایسا مقام نہیں جب انسان یہ سمجھے کہ فاذا فرغت پر پورا اترنے کے بعد فانصب کا حکم نہیں رہا بلکہ اس آیت کی رو سے قیامت تک ایک دور کے بعد دوسرا دور شروع ہوگا۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو قربانیاں دینی پڑیں گی۔۔۔۔۔۔میں نے بتایا ہے کہ انسانی زندگی میں چھوٹا بڑا دور آتا رہتا ہے۔ہمارا ایک دور مالی سال پر مشتمل