انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 630
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۳۰ سورة الم نشرح بصیرت کے ساتھ پڑھے گا جتنا اس دنیا میں پڑھتا ہے اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو اس سے زیادہ بصیرت کے ساتھ دیکھے گا جتنا وہ اس دُنیا میں دیکھ رہا ہے اس لئے اس کی حمد تو اس دنیا کی حمد سے بہتر اور احسن ہوگی۔۔۔۔۔۔کی زندگی کا پورا ایک دور ہے اور کیونکہ مسلمانوں نے اس دور میں فَرَغْتَ پر عمل کیا تھا یعنی اس دور مظلومیت کی زندگی میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو انہوں نے پورے طور پر ادا کر دیا تھا۔اُن کا کوئی جزو ایسا نہیں تھا کہ جس کو انہوں نے نظر انداز کر دیا ہو اور ادا نہ کیا ہو۔غرض انہوں نے اپنی قربانیوں کو مکمل بنادیا تھا چنانچہ ان کا نتیجہ شاندار کامیابی کی شکل میں نکلا۔گواس کامیابی میں بہت ساری اور چیزیں بھی شامل تھیں لیکن اس ایک خطبہ میں ان کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی لیکن ایک شکل جو بڑی نمایاں تھی وہ یہ تھی کہ مکہ کے ظالم سرداران نے مکہ سے باہر نکل کر جنگ کے ذریعہ اسلام کو مٹانا چاہا تو اپنا سر اور دھڑ چھوڑ کر وہ قوم واپس مکہ کولوٹی۔ان کے بڑے بڑے سردار اس جنگ میں مارے گئے تھے جس طرح خواب میں یا کہانیوں میں بے دھڑ کے انسان کا منظر دکھائی دیتا ہے یعنی بعض دفعہ بغیر سر کے دھڑ چلنا شروع کر دیتا ہے۔حقیقتا کفار مکہ بغیر دھڑ کے واپس لوٹے اس لئے کہ جس سر نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ مسلمانوں کو قتل کر دیا جائے یا جس دماغ نے اسلام کو مٹانے کے متعلق سوچا تھا، اس کو اللہ تعالیٰ نے ختم کردیا مگر اسلام ختم نہیں ہوا۔غرض اس دور میں امت محمدیہ نے جب کہ وہ ایک چھوٹی سی امت تھی اور بڑے نازک دور سے گزر رہی تھی اس وقت اپنی ذمہ داریوں کو ان کے تمام اجزا کے ساتھ نباہا اور انتہائی قربانیاں دیں۔پس واقعہ میں انہوں نے اس حکم پر عمل کیا اور فرغت کی رو سے ایک دور کی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا کر فانصب کے حکم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اگلے دور کی طرف متوجہ ہو گئے۔یعنی بدر کی جنگ جس میں پہلے دور کی انتہا اور انجام تھا اور نہایت شاندار انجام تھا اور خدا تعالیٰ کی محبت کا ایک عظیم الشان اظہار تھا۔اُس وقت گویا ایک دور ختم ہوا۔اگلا حکم کیا ہے! آرام سے بیٹھوا او سو جاؤ تمہیں مزید قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں۔فرمایا فانصب۔ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔اس دور میں بھی انتہائی جد و جہد کرنی پڑے گی اور جہاد سے کام لینا پڑے گا اور رفعتوں اور مضبوطی کے سامانوں کے لئے کوشش کرنی