انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 575 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 575

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۷۵ سورة النازعات بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النازعات آیت ۲۵ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الأعلى انسان خدا سے دور ہو کر ہی انانیت کا چولہ نہیں اوڑھتا اور تکبر اور فخر اور اپنے آپ کو کچھ سمجھنے کی میں مبتلا نہیں ہو جاتا اور خدا سے دوری کی راہوں کو اختیار کرنے کے بعد ہی اس قسم کی انا کا، انانیت کا مظاہرہ نہیں کرتا جس قسم کی انانیت کا مظاہرہ فرعون نے آنا ربکم الاعلی کہہ کر کیا تھا بلکہ خدا پر ایمان لانے کے بعد بھی اس ابتلا کا دروازہ انسان پر کھلا رہتا ہے۔اسلام نے مذہب کی جو بنیادی حقیقت ہمیں سمجھائی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا کام ہے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے پر اخلاص کے ساتھ اور نیک نیتی کے ساتھ ان اعمال کو وہ بجالائے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ بجالا ؤ اور ان سے اجتناب کرے جن سے بچنے کے لئے حکم دیا گیا ہے۔اعمال کو قبول کرنا یا نہ کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ان چھپی ہوئی پوشیدہ ایسی کمزوریوں کو جاننا جن پر انسان خود بھی اطلاع نہیں رکھتا۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔یہ انسان کر ہی نہیں سکتا۔اس لئے اسلام کی اس تعلیم کا جو حصہ ہے، اس کا خلاصہ اس فقرہ میں بیان کیا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد سمجھو کہ کچھ نہیں کیا۔اس لئے کہ قبول کرنا یا نہ کرنا، یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔کوئی شخص ساری ساری رات خدا کے حضور بظاہر دعائیں کرنے کے باوجود خدا کا پیارا نہیں بنتا۔مالی قربانیاں دینے کے بعد ، وقت کی قربانی دینے کے بعد ، نفس کی قربانی دینے کے بعد عزت کی قربانی دینے کے بعد خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ ان قربانیوں کو قبول نہ کرے۔اس سلسلہ میں حکم قرآن کریم میں یہ بیان ہوا ہے کہ لا تز کوا أَنْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) خودا اپنے نفس کو اور ایک دوسرے کو ( یہ دونوں مفہوم اس میں آتے ہیں ) پاک اور مطہر نہ قرار دیا کرو۔مختلف آیات