انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 546 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 546

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۶ سورة المدثر نصیحت کرتے ہیں کہ تمہیں ظلم کرنا کسی صورت میں روا نہیں۔بلکہ قدرت رکھتے ہوئے بھی مخالف کی ایذاء دہی پر تمہیں صبر سے کام لینا ہوگا۔یہ عام معنی ہیں ان آیات کے الیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے میرے دل میں یہ ڈالا گیا ہے کہ میں جماعت کو یہ بتاؤں کہ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں اس مقام کا ان آیات کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔یعنی ان آیات میں ایک نہایت اہم نصیحت ہے جو ہمیں کی گئی ہے اور ہمارے لئے کچھ پیشگوئیاں ہیں جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔اس لحاظ سے ان آیات میں خدا تعالیٰ ہمیں مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے جماعت احمدیہ جس کی تخم ریزی اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ سے کی تھی جس کے استحکام کے لئے خلافت اولی کو کھڑا کیا گیا تھا جس کی تربیت کے لئے حضرت مصلح موعود کی زندگی کا ہر لحہ اور آپ کے خون کا ہر قطرہ وقف رہا۔اب تم المدثر کی حیثیت اختیار کر چکے ہو۔تم اپنی بلوغت کو پہنچ چکے ہو اور تقوی کے جن لباسوں کی ضرورت تھی۔وہ تمہیں مہیا کر دیئے گئے ہیں۔پس تمہیں بالغ نظری اور بالغ عملی سے کام لینا ہوگا۔اس حالت میں کہ ہم نے تمہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل سے تربیت کے اس مقام تک پہنچادیا ہے۔ہماری اس آواز کوسنو۔قُم فَانْذِرُ کہ کھڑے ہو جاؤ۔اور ثابت قدمی کے ساتھ قریہ قریہ اور ملک ملک میں پھیل جاؤ۔اور اقوامِ عالم کو یہ بتاؤ کہ اگر خدا کے مسیح کی آواز پر انہوں نے لبیک نہ کہا تو خدا کا قہران پر نازل ہوگا۔دنیا بظاہر امن میں ہے۔دنیا والے اس وہم میں مبتلا ہیں کہ ہم اپنی کوششوں سے دنیا میں امن قائم کر دیں گے۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں کوئی ہو۔این۔او یا کوئی دوسری کانفرنسز جوامن کے قیام کے لئے بنائی گئی ہیں ہرگز نتیجہ خیز نہیں ہوں گی۔کیونکہ آسمان اس سے متفق نہیں۔اور خدا تعالیٰ کی نظر سے انسان گر چکا ہے۔پس ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم دنیا والوں کو یہ بتا ئیں کہ اگر تم اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے زندگی، امن اور سلامتی چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہو اور اس کے مسیح پر ایمان لاؤ۔خدا کی شریعت کو پر لہ ردمت کر و۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہنسی اور ٹھٹھا مت کرو۔اس کے جوئے کے نیچے اپنی گرد نہیں رکھ دو تب تم امن سے اپنی زندگیاں گزار سکتے ہو۔اور تمہاری نسلیں سلامتی کے ساتھ اس دنیا میں رہ سکتی ہیں ورنہ نہیں۔