انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 545 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 545

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۵ سورة المدثر دکھاؤ ان کو بتاؤ کہ تمہارا رب کتنا پیار کرنے والا ہے لیکن اگر تم اس کی طرف متوجہ نہیں ہو گے تو سنو کہ پھر اس کا غضب بھی بڑا خطرناک ہوا کرتا ہے۔تو وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ میں جسمانی، اخلاقی اور روحانی پاکیزہ ماحول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ووو وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ رِجْز کے معنی گندگی کے بھی ہیں۔رجز کے معنی عذاب کے بھی ہیں۔رجز کے معنی شرک کے بھی ہیں۔فاهجر میں حکم ہے کہ ان سے دور رہو۔گو یا حکم دیا کہ ہر قسم کی گندگی سے دور رہو۔اور ایسا سامان پیدا کرنے کی کوشش کرو کہ دنیا خدا کے عذاب سے محفوظ ہو جائے۔یعنی ان کو اعمال صالحہ کی طرف بلاؤ، انہیں اصلاح نفس کی دعوت دو اور کوشش کرو کہ انسانی بتوں کو سجدہ کرنے کی بجائے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف جھکے اور اسی کی پرستش کرے۔پھر فرمایا وَلَا تَمُثْنُ تَسْتَكُثرُ - مَن کے ایک معنی تو ہیں کاٹ دینے کے۔دوسرے معنی ہیں احسان کے بوجھ تلے دبا دینے کے۔تستکثر کہ تا لوگ اس وجہ سے اسلام میں داخل ہوں اور اسلام کو کثرت تعداد نصیب ہو جائے۔دونوں مذکورہ بالا معنی یہاں چسپاں ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ دنیوی لالچ کے ذریعہ کسی کو اسلام کی طرف مت بلاؤ کیونکہ کسی پر اسلام کا محض لیبل لگ جانا کافی نہیں ہے۔اسلام کی طرف محض منسوب ہو جانا کافی نہیں ہے جب تک کہ دلوں کے اندروہ پاک تبدیلی پیدا نہ ہو جو پاک تبدیلی کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔دوسرے من کے معنی قطع کرنے کے ہیں یعنی ان پر مختلف پابندیاں لگا کر یا ظلم سے یا جبر کر کے یا دباؤ ڈال کر ان کے لئے ایسا ماحول پیدا نہ کرو کہ وہ اپنے کو مجبور پا کر ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہو جائیں حالانکہ ان کے دلوں میں اسلام داخل نہ ہوا ہو۔پھر فرمایا وَلِرَبَّكَ فَاصْبِرُ یعنی اس بات سے مت ڈرو کہ مخالف اپنی مخالفت سے ہمیں ایذاء پہنچا رہے ہیں کیونکہ تمہیں اپنے رب کی خوشنودی کے لئے ہر حالت میں صبر کرنا پڑے گا۔اس میں شروع دن سے ہی مسلمانوں کو ایک بشارت دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ باوجود اس وقت انتہائی کمزور ہونے کے تم فاتح ہو جاؤ گے اور بدلہ لینے پر اور انتقام لینے پر اور اگر تم صراط مستقیم سے ہٹ جاؤ تو ظلم کرنے پر بھی قادر ہو جاؤ گے لیکن ہم تمہیں