انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 508
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۰۸ سورة القلم لئے، اس سے زیادہ شدید گرمی جس کے نتیجہ میں میں آج خطبہ چھوٹا کر رہا ہوں، تپتی ریت پر ننگے جسموں کو لٹا کر کوڑے مارے گئے ان کو۔یعنی جتنا انتہائی ظلم آپ سوچ سکتے ہیں اس سے آگے بے انتہا فاصلے طے کرتا ہوا اُن کا ظلم نکل گیا۔اور جب تیرہ سالہ ظلم سہنے کے بعد آپ نے ہجرت کی تو پیچھا کیا اور تلوار کے زور سے آپ کو مٹانے کے منصوبے بنائے لمبا عرصہ یہ بھی ہے۔بہر حال ان سب مظالم کو سہنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قوت اور عزت اور غلبہ کے نتیجہ میں (جو اس کی صفات ہیں ) ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ دس ہزار قدوسیوں کا ایک گروہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ پہنچا تو جو رو و سائے مکہ اس ظلم کے باپ تھے، ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنی عزت کی خاطر اور اپنی عورتوں کی عزت کی خاطر تلوارمیان سے نکالتے اور بغیر لڑے انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور وہ جانتے تھے، ان کی اندر کی ، ان کے نفس کی آواز یہ تھی کہ جس قدر ظلم ہم نے ڈھائے ہیں اب حق ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ ہم سے جیسا بھی سلوک کریں، کریں لیکن سلوک کیا کیا ان سے؟ سلوک ان سے یہ کیا لا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ :(يوسف:۹۳) تمہارے سارے گناہ ہم معاف کرتے ہیں، میں اور میرے ماننے والے اور دعا کرتا ہوں میں کہ اللہ تعالیٰ بھی معاف کر دے۔(ابن ہشام غزوہ فتح مکہ) انسان جب معانی دے دے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ بھی اس معافی کو قبول کر لے۔قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر ہے اس کا۔لیکن اس مقام کے اوپر خدا تعالیٰ نے جس درد کے ساتھ رؤوسائے مکہ کے لئے اور جو عرب کا ملک تھا اس کی اصلاح اور ان کے اسلام لانے کے لئے دعائیں کی تھیں اس دن اسی درد کے ساتھ خدا کے حضور یہ دعا بھی کی کہ اے خدا! ہم بھی معاف کرتے ہیں اور تو بھی معاف کر۔اور خدا تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا۔یہ خلق عظیم ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۱۵،۲۱۴) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ عربی میں عظیم کے لفظ کے استعمال کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کیلئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہ اپنی نوع میں سب سے اعلیٰ اور ارفع ہے مثلاً یہاں مری میں چیل کے درخت بہت ہیں۔کسی چیل کے درخت کے متعلق یہ کہنا کہ یہ چیل کا عظیم درخت ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس علاقے میں اتنا بڑا چیل کا درخت