انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 507
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۰۷ سورة القلم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القلم آیت ۵ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ۔قرآن کریم میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کہ ایک عظیم خلق پر ، اچھے اخلاق جس کی عظمتیں ہیں آپ قائم ہیں ( عربی کا لفظ عظیم جو ہے اس کے معنے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ) آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خُلقِ عظیم پر قائم کیا گیا ہے، اپنی وسعتوں کے لحاظ سے بھی کہ ساری دنیا میں اس کے اثر نے پھیلنا اور نوع انسانی کو اس اثر نے اپنے احاطہ میں لینا ہے اور رفعتوں کے لحاظ سے ایسا کہ اس ”خُلق پر چلتے ہوئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کریم کے انتہائی قریب پہنچ گئے۔ہر شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر اگر چلے گا تو انتہائی رفعت کو حاصل کر لے گا اپنے 66 دائرہ استعداد میں۔اس قدر عظیم ہے یہ خلق خلق عظیم جسے کہا گیا ہے، یہ خلق جو ہے وہ بڑا عظیم ہے۔دشمن ہوتے ہیں، بہت ہی کم لوگ ہوں گے دنیا میں جو لمبا عرصہ دشمن کے وار سہنے کے بعد اور وار بھی انتہائی، تیرہ سالہ زندگی میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے انتہائی مظالم ڈھائے آپ پر ، آپ کے متبعین پر ، ان میں سے ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ اڑھائی سال تک ہر ممکن کوشش کی کہ بھوکوں مر جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ منصوبہ بھی نا کام کیا، پھر جو غلام تھے ان کے، جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تو ان تیرہ سالوں میں جب تک کہ انہیں آزاد نہیں کیا اسلامی کوشش نے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے پیسے خرچ کئے ، اوروں نے بھی بڑی قربانیاں دیں ان لوگوں کے دکھوں کو دور کرنے کے