انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 493
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ ۴۹۳ سورة الملك بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الملك آیت ۱ تا ۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔) تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ بِالَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ) الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتِ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبُ إلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَ هُوَ حَسِيرُ تمام برکتیں اس ہستی سے مخصوص ہیں جو حقیقی بادشاہ ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی بھی طاقت اُسے اپنے ارادوں کے پورا کرنے سے عاجز نہیں کر سکتی۔خلق الْمَوْتَ وَالْحَيوة موت وحیات کو اس نے اس لئے پیدا کیا تا کہ تمہارے عملوں کے باعث تمہیں آزمائے کہ تمہارے عمل کیسے ہیں۔وَهُوَ الْعَزِیزُ وہ طاقتور ہستی ہے کوئی اس کے غضب سے بچ نہیں سکتا۔وَهُوَ الْغَفُورُ خدا تعالیٰ بڑی بخشش کرنے والا اور گناہوں کی معافی دینے والا ہے اسی طرح امید پیدا کرنے والا ہے کیونکہ رورود میری کچھ طبیعت خراب ہو رہی ہے اس لئے آج میں صرف خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا کے متعلق اختصار سے بتاؤں گا۔دُنیا میں موت وحیات کا سلسلہ اکٹھا اور متوازی چلتا ہے اصل چیز حیات ہے اور حیات یا زندگی کا نہ ہونا یا زائل ہو جانا موت کہلاتا ہے۔قرآن کریم نے حیات کی مختلف قسمیں بیان کی ہیں اور حیات