انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 466
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۶۶ سورة الجمعة اور آپ کی تعلیم چار حصوں میں تقسیم، جن میں سے دو کے متعلق مختصراً میں نے کہا ہے اور تیسری چیز ہے حکمت اس کے بڑے پہلو ہیں۔قرآن کریم کے ہر حکم میں، میں ایک دو بنیادی حکمتیں ہیں وہ بیان کرنے لگا ہوں ہر حکم جو ہے اس کے اندر اعتدال کے پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے تا کہ انسان تھک نہ جائے اور دلبرداشتہ نہ ہو جائے، اعتدال کا پہلو مثلاً کھانے پینے کے متعلق اعتدال کا حکم ، روزہ رکھنے کے متعلق اعتدال کا حکم ، ایک تو یہ کہ ہر روزہ مہینے کے سارے دنوں کے چوبیس گھنٹے کا روزہ نہیں بلکہ دن کا روزہ رکھا، تو دن اور رات میں ایک اعتدال پیدا کر لیا جو دن کی جسمانی کوفت تھی یا جسمانی تکلیف تھی یا جو جسمانی طور پر روز مرہ کی عادت میں فرق پڑا تھا عام طور پر لوگ کھانا کم نہیں کرتے ، میں نے بڑا مطالعہ کیا ہے کچھ زیادہ ہی کھا لیتے ہیں مثلاً جولوگ رمضان سے باہر پراٹھا نہیں کھاتے وہ رمضان میں کھا لیتے ہیں با قاعدہ گھی کے ساتھ قطع نظر اس کے فوائد اس کے پھر بھی ہیں اس بحث میں نہیں میں اس وقت پڑتا۔پھر ایک ہمارے صحابی تھے ان کا اسلام جوش میں آیا اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں تو روز ہی روزہ رکھوں گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی اس نے کروا دی یہ تو کہتا ہے میں روز روزہ رکھوں گا آپ نے اس کو بلایا کہا نہیں تم مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے تیس روزوں کا ثواب تمہیں مل جائے گا۔انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ میں اس سے زیادہ رکھتا ہوں اسی طرح وہ کرتے کرتے پھر آپ نے کہا سب سے زیادہ جو ہے وہ یہ ہے شکل کہ ایک دن رکھو ایک دن چھوڑو۔روز نہیں رکھو گے تم اور بھی حقوق ہیں جو تم نے ادا کرنے ہیں تو یہ کتنی بڑی ہے ہر چیز میں یہ حکمت ہے۔کھانا ہے مثلاً قرآن کہتا ہے کُلوا کھاؤ ، قرآن نے یہ نہیں کہا کہ نہ کھاؤ۔قرآن کہتا ہے جو حلال ہے کھاؤ قرآن کریم نے کہا ہے کہ ہر کھانے کی نعمت میں نے اے مسلمان میں نے تیرے لئے پیدا کی ہے لولاک لما خلقت الافلاک آپ کے متبعین کے لئے ہوئی ناں ہر چیز اچھی کھاؤ وَاشْرَبُوا اور اچھی حلال پینے کی چیزیں ہیں پیو کوئی نہیں روکتا جس چیز سے ہم روکتے ہیں وَلا تُسْرِفُوا اسراف نہ کرنا۔اس زندگی میں بیمار ہو جاؤ گے اخروی زندگی میں بداخلاقوں میں تہارا نام شمار ہو گا ثواب تمہیں نہیں ملے گا بہت ساری بد اخلاقیاں پیدا ہو جائیں گی بہت سے حقوق ہیں جو تلف ہو جا ئیں گے بہت