انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 37
تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۳۷ سورة السجدة نہیں دھرے۔اللہ تعالیٰ کی وحی کے نتیجہ میں ایک انقلاب عظیم بپا ہوا مگر تو نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا اور تو نے اپنے گردو پیش کے حالات سے وہ نتیجہ نہ نکالا جو ایک صحیح دل نکال سکتا تھا۔آخر نتیجہ یہ نکلا کہ تو اللہ تعالی کی ناشکری پر اتر آیا۔تو نے اس کے قرب کی راہوں کی بجائے اس سے دوری کی راہوں کو اختیار کر لیا اور اس طرح تو اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا جس مقصد کے لئے تجھے پیدا کیا گیا تھا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے سورہ سجدہ کی اس مذکورہ بالا آیت ( اور اس سے پچھلی آیتوں کو ملا کر کیونکہ سارا مضمون ایک ہی چل رہا ہے ) میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ انسان کو ہر لحاظ سے کامل اور مکمل طاقتیں عطا ہوئی ہیں اور پھر ان طاقتوں کی کماحقہ نشوونما کے لئے یہ سامان بھی پیدا کیا کہ اس کے لئے اپنی وحی کی روشنی کا حصول ممکن بنا دیا انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے اور اس کے دل میں اپنے رب کی محبت حاصل کرنے کی خواہش بھی موجزن ہو تو وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوسکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے انسانی طاقتوں کی صحیح نشو و نما کے لئے اسے کان دیئے گویا کان کا ایک چشمہ جاری کیا اور جیسا کہ دوسری جگہ سے ہمیں پتہ لگتا ہے یہ چشمہ اپنی پوری روانی کے ساتھ ، اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی وجود مبارک سے نکلا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محض الہام تمہیں میرے قرب کا وارث نہیں بنا سکتا تھا کیونکہ الہام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا ہے کہ یہ توشہد کی مکھی کو بھی ہوتا ہے لیکن قرب الہی کا جو مقام انسان کو حاصل ہو سکتا ہے اور عملاً بہت سے انسانوں کو حاصل ہوا اور بالاخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں اپنے عروج کو پہنچاوہ شہد کی مکھی کو تو حاصل نہیں ہوسکتا۔پس فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے الہام کا چشمہ جاری کیا ہے لیکن جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ کہ تیرے اندر وہ مطلوبہ طاقت ہونی چاہیے کہ جس رنگ میں تجھے اللہ تعالیٰ کا الہام سننا چاہیے اس رنگ میں سنے اور پھر ساتھ ہی جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو دیکھنا چاہئے اس رنگ میں دیکھے اور پھر اس سے ایک صحیح نتیجہ نکالنے میں کامیاب بھی ہو جائے کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کا راز اس میں مضمر ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحہ ۷۶۲ تا ۷۶۶)